.

’جعلی پیشکشیں‘:میکڈونلڈزکاصارفین سے بنک تفصیل مانگنے والی ڈھونگ سائٹس پرانتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں فریب دہندہ افراد نے فاسٹ فوڈ کے شائق صارفین کو لوٹنے کے لیے ایک نیا دھندا شروع کردیا ہے۔وہ صارفین کی بنک تفصیل حاصل کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ پر جعلی پیش کشوں کی تشہیرکررہے ہیں اور خود کو فاسٹ فوڈ چین میکڈونلڈزکے روپ میں پیش کررہے ہیں۔

عالمی فاسٹ فوڈ کمپنی نے اپنے متحدہ عرب امارات کے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ’’یہ بات ہماری توجہ میں آئی ہے کہ یواے ای میں دھوکا دہی سے ہمارے کاروبارکا روپ دھارنے والی بعض ویب سائٹس گردش کر رہی ہیں۔‘‘

اس نے مزید لکھا ہے کہ’’یہ ویب سائٹس جعلی پیش کشیں کر رہی ہیں اور صارفین سے درخواست کررہی ہیں کہ وہ ان کے اس جعلی لین دین میں اپنی بنک تفصیل ظاہرکریں۔ہم مقامی حکام کے ساتھ مل کران سائٹس کوبند کرانے کے لیے کوشاں ہیں اور صارفین کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ کسی طرح کی معلومات کا اشتراک نہ کریں یا کسی مشکوک لنک یا دھوکا دہی پرمبنی ترغیبات والی پوسٹوں پر کلک نہ کریں۔‘‘

میکڈونلڈ نے متحدہ عرب امارات میں اپنے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے کھانے کے آرڈرآفیشل ایپ کے ذریعے یا برانڈ کی آفیشل ویب سائٹ کے میک ڈیلیوری لنک کے ذریعے دیں۔

حکام کا فریب کاروں کے خلاف انتباہ

امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی رپورٹ کے مطابق ابوظبی پولیس نے جون میں ایک بیان جاری کیا تھا۔اس میں رہائشیوں کو بنک ڈیٹا کی درخواست کرنے والی دھوکا دہی اور فریب کاری پر مبنی کالز کے خلاف متنبہ کیا گیا تھا اور عوام پر زوردیا گیاتھا کہ وہ موصول ہونے والی کسی بھی مشکوک کال یا پیغام کی اطلاع دیں۔

انھوں نے ان فریب دہندوں کے خلاف بھی متنبہ کیا جومتحدہ عرب امارات کے مرکزی بنک اورابوظبی پولیس کے طور پر ٹیکسٹ پیغامات بھیج رہے تھے۔پولیس نے دھوکا دہی کے لیے استعمال ہونے والی ویب سائٹس کو کھولنے پر انتباہ کیا تھا۔ان میں سرکاری اداروں کا ڈھونگ رچانے والوں کے مختصرٹیکسٹ پیغامات بھی شامل ہیں۔

پولیس نے شہریوں کو متعددمرتبہ بنک کی تفصیل شیئر کرنے پرمتنبہ کیا ہے کیونکہ فریب دہندے ان معلومات کو افراد کے بنک اکاؤنٹس سے رقوم نکالنے کے لیے استعمال کرلیتے ہیں۔

ابوظبی پولیس نے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنی خفیہ معلومات بشمول بنک اکاؤنٹ یا بنک کارڈ کی معلومات، آن لائن بنک کاری کے پاس ورڈز، اے ٹی ایم پن کوڈ، سی وی وی (کارڈ ویری فیکیشن ویلیو) نمبر یا پاس ورڈز کسی کے ساتھ شیئرنہ کریں اوراس بات کی تصدیق کریں کہ بنک ملازمین اور بنک کبھی بھی ایسی معلومات نہیں مانگیں گے۔