.

اسرائیل کی دبئی ایکسپو2020ءمیں شرکت کے لیےتیاریاں عروج پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل آیندہ جمعہ سے دبئی میں منعقد ہونے والے عالمی تجارتی میلے ایکسپو 2020ء میں حصہ لینے کی بھرپور تیاری کررہا ہے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان 15 ستمبر2020ء کومعمول کے دوطرفہ تعلقات استوارکرنے کے لیے امن معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے ایک سال کے بعد اسرائیل یواے ای میں منعقد ہونے والی کسی پہلی بڑی عالمی تقریب میں شرکت کررہا ہے۔مشرقِ اوسط اور کسی عرب ملک میں یہ پہلی عالمی نمائش ہے۔

دبئی میں چھے ماہ تک جاری رہنے والے اس عالمی میلے میں اسرائیل نے بھی اپنا پویلین بنایا ہے۔اس کے ترجمان مناخیم گینز نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہمیں یہاں آکربہت خوشی ہو رہی ہے۔‘‘

یواے ای سے قبل صرف مصر اور اردن دوایسے عرب ممالک تھے جنھوں نے اسرائیل کو بہ طور ریاست تسلیم کیا تھا اور اس کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کیے تھے۔فلسطینی صدرمحمود عباس نے یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کو اپنے مقصد کے ساتھ ’’دھوکا‘‘قرار دیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین، مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے اتفاق کیا تھا اور الگ الگ امن معاہدے طے کیے ہیں۔

دبئی ایکسپو میں اسرائیلی پویلین سب کے لیے کھلا ہوگا۔اس میں عربی اورعبرانی دونوں زبانوں میں ’کل کی طرف‘ کا ایک بڑا روشن نشان نمایاں کیا گیا ہے۔اس کے اندر راستے ریت کے ٹیلوں کی طرح بنائے گئے ہیں جو کنکریٹ اور ریتلے رنگ کے ربرکی پتلی پرت سے بنے ہوئے ہیں۔

گینز نے کہا کہ ’’ہمارا پویلین ان چیزوں سے بنا ہے جو ہمیں مربوط کرتی ہیں، جو ظاہرکرتی ہیں کہ ہم کتنے ایک دوسرے سے مماثل ہیں۔ہم جس ’ریت‘ پر کھڑے ہیں،وہ ٹیلوں کی علامت ہے اور اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کی جغرافیائی شکل اس سے بہت ملتی جلتی ہے۔‘‘

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے تعلقات معمول پر لانے کے ذریعے معاشی منافع کے حصول پر زور دینے کی کوشش کی ہے۔دبئی کو امید ہے کہ یہ عالمی ایکسپو دنیا بھر سے زائرین کوراغب کرے گی اوراس کی معیشت کو فروغ دے گی۔

واضح رہے کہ دبئی ایکسپو اکے انعقاد میں کرونا وائرس کی وَبا کی وجہ سے ایک سال کی تاخیر کی گئی ہے۔اب اس کا یکم اکتوبر کو افتتاح ہوگا اورعوام کے لیے اس کےدروازے کھل جائیں گے۔