.

جرمنی کی حسین ایتھلیٹ کو کھیل کے بجائے فیشن ماڈلنگ کیوں کرنا پڑی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی سے تعلق رکھنے والی خوبصورت اولمپیئن ایتھلیٹ الیکا شمیڈٹ نے کھیل کا میدان چھوڑ کر فیشن ماڈلنگ شروع کر دی ہے۔ ’مختصر فاصلے کی دوڑ‘ میں حصہ لینے والی الیکا نے اسٹیڈیم میں کھیل کے مقابلوں میں ہنر آزمانے کے بجائے فیشن ماڈلنگ کے لیے ’ہیوگو باس‘ میں شامل ہونے کے بعد کیٹ واک شروع کی تو اس کے مداحوں میں اس کے پیشے کی تبدیلی پر بحث شروع ہوگئی۔

بائیس سالہ الیکا شمیڈٹ ٹوکیو گیمز میں کوئی خاص کاردگی نہ دکھانے پر حاشیے پر رہیں۔ جب انہیں خواتین کی 400x4 میٹر ریس کے لیے ٹیم سے نااہل قرار دیا گیا لیکن انہوں نے شاندار تصاویر کے مجموعے میں انسٹاگرام پر تقریبا 2.5 ملین فالوورز جمع کیے ہیں۔

میلانو فیشن ویک

"سنڈے ٹائمز" ویب سائٹ کے مطابق جرمن ایتھلیٹ الیکا شمیڈٹ نے میلانو فیشن ویک میں بطور ماڈل اپنی پہلی نمائش کی جہاں اس نے کہا کہ اسے ماڈلنگ کا بالکل تجربہ نہیں ہے۔ وہ یہ دیکھ کر بہت پرجوش ہے کہ وہ اس معاملے سے کیسے نمٹے گی۔

ٹوکیو اولمپکس سے اخراج کے بعد دنیا کی سب سے خوبصورت خاتون ایتھلیٹ مایوس ہوئی۔ اسے شکایت ہے کہ اسے اپنی اتھلیٹک صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا بھرپور موقع نہیں دیا گیا۔ یاھو اسپورٹس کے مطابق اگست میں اس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ"میں جھوٹ نہیں بولوں گی ،میں اس سال اپنی دوڑ سے مطمئن نہیں ہوں‘۔

الیکا نے مزید کہا کہ میں نے پہلے سے کہیں زیادہ محنت کی ہے۔ میں نے بھرپور جسمانی محنت کی اور ہر مشق میں پہلے سے بڑھ کر کوشش کی ہے اور کھیل کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔

اس نے کرونا وائرس اور اس کے نتیجے میں اپنے رابطوں کے منقطع ہونے پر بھی بات کی۔

الیکا شمیڈٹ کا شمار جونیئر سطح پر کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ اس نے 2017 میں یورپی انڈر 20 چیمپئن شپ میں400x4 ریس میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔

اس کے بعد اس نے 2019 میں یورپی انڈر 23 چیمپئن شپ میں اسی ایونٹ میں کانسی کا تمغہ بھی جیتا تھا۔