.

یواے ای کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انتخاب پررکن ممالک سے اظہارِتشکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت خلیفہ شاہین المررنے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے ملک کے انتخاب پرعالمی ادارے کے رکن ممالک سے اظہارِتشکرکیا ہے۔

انھوں نے سوموار کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’’متحدہ عرب امارات سلامتی کونسل میں خلیج کو پاٹنے، علاقائی تنازعات کے حل، کرونا وائرس کی وبا کے خاتمے، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور نوجوانوں اور خواتین کی مدد کے لیے اپنے پیشگی تجربے کی بنیاد پر کام کرے گا۔‘‘

اماراتی وزیرنے یمن میں پرامن اور مستحکم ماحول کے لیے طرفین کے درمیان جامع اور پائیدار جنگ بندی پر زوردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ لیبیا اور شام سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلا ہونا چاہیے اور ان دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب خطے میں تنازعات کے چکر کو کامیابی سے ختم کرنے کے لیے عربوں کے داخلی امور میں بیرونی علاقائی مداخلت کو روکنا ہوگا۔ان کے بہ قول یمن میں پائیدارامن کے حصول کا موقع موجود ہے، صرف ایک جامع حل کے ذریعے ہی یمن اور ہمسایہ ممالک کے استحکام کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس ضمن میں الریاض معاہدے پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔

اماراتی وزیرنے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مشترکہ مفاہمت تک پہنچنے سے قبل تمام علاقائی اور بین الاقوامی خدشات کو دورکیا جائے۔نیز ایران کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں سابقہ جوہری سمجھوتے کی خامیوں کو دور کرنا ہوگا اور خطے کے ممالک کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔

انھوں نے ایران سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کا احترام کرے اور تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کرے۔انھوں نے متحدہ عرب امارات کے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ ایران اس کے تین جزائر طنب الکبریٰ، طنب الصغریٰ اورابو موسیٰ پر اپنا قبضہ ختم کرے۔

انھوں نے افغانستان میں سلامتی اوراستحکام کومضبوط بنانے کی اشد ضرورت پر زوردیا تاکہ اس کے عوام خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کی امنگوں کو پورا کیا جاسکے اور امن اور خوشحالی کے ذریعے افغان عوام کے طویل مصائب کا خاتمہ کیا جاسکے۔

خلیفہ شاہین المررنے اسرائیل سے تمام فلسطینی اورعرب علاقوں پر قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور1967 کی سرحدوں پرمشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پرزوردیا جس کا دارالحکومت یروشلیم (مقبوضہ مشرقی بیت المقدس) ہو۔انھوں نے غیر قانونی اقدامات ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔