.
ایران جوہری معاہدہ

ایران کوکشیدگی سے بچنے کے لیے جوہری مذاکرات کی میزپرلوٹنا ہوگا: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے ایوان صدر کے ایک عہدہ دار نے کہا ہے کہ ایران کو 2015 میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کی میزپرواپس آنا ہوگا تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچاجا سکے۔

انھوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ نئی شرائط طے کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سمجھوتے کے پیرامیٹرواضح ہیں۔فرانسیسی عہدہ دارنے صحافیوں کو بتایا کہ ’’ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیےعالمی طاقتوں کو متحد رہنے کی ضرورت ہے ،بالخصوص چین کو خود کو ظاہر کرنے اورزیادہ پُرعزم انداز میں کام کرنےکی ضرورت ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا ہے لیکن اس سے بچنے کے لیے ایران کو غیرمشروط طور پر مذاکرات کی میز پر لوٹنا ہوگا۔

ایران نے حالیہ ہفتوں میں ایسے اشارے دیے ہیں کہ مذاکرات آیندہ چند ہفتوں میں دوبارہ شروع ہوجائیں گے لیکن اس نے ان کے آغاز کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں بتائی ہے جس سے مغربی فریقوں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکا میں 2015 کے سمجھوتے کی بحالی سے متعلق مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس فرانسیسی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ ’’جتنا زیادہ وقت گزرتا جاتاہے، مذاکرات کی میز پر لوٹنا اتنا ہی مشکل ہوتا جارہا ہے۔اس بنا پربحران کے قابل انتظام اور قابل قبول حل کی راہ میں پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔‘‘وہ ایران کی جانب سے ایک جوہری ہتھیارکی تیاری کے لیے درکارمواد کو اکٹھا کرنے کا حوالہ دے رہے تھے۔

دریں اثنا ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے منگل کے روزاقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی دینے کا امریکی مطالبہ مسترد کردیاہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن اس کی جوہری تنصیبات پرتخریبی حملوں کی مذمت کرے۔اس کے بغیر وہ معائنے کا مطالبہ کرنے کا اہل نہیں ہے۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے ایرنا کے مطابق جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے ماسکو کے دورے موقع پر کہا کہ ’’جن ممالک نے ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت نہیں کی،وہ ان کے معائنے سے متعلق تبصروں کے بھی مجازنہیں ہیں۔‘‘

ایران اورامریکا کے درمیان جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مذاکرات نئے ایرانی صدرابراہیم رئیسی کے اگست میں برسراقتدارآنے کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔اس سے پہلے دونوں ملکوں نے اپریل سے جون تک ویانا میں بالواسطہ بات چیت کی تھی۔

ایران کے وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان نے گذشتہ جمعہ کوایک بیان میں کہا تھاکہ جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق مذاکرات’بہت جلد‘دوبارہ شروع ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ان مذاکرات سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا ہے۔