.
العربیہ خصوصی رپورٹ

لیبیا کی اعلیٰ ریاستی کونسل انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتی: عقیلہ صالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے ایوان نمایندگان کے اسپیکر عقیلہ صالح نے کہا ہے کہ ملک کوبحران سے نکالنے کا واحد راستہ انتخابات ہیں لیکن اعلیٰ ریاستی کونسل ملک میں انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتی ہے۔

عقیلہ صالح نے منگل کے روزالعربیہ سے ایک انٹرویو میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ’’لیبیا کا ایوانِ نمائندگان ملک میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا انعقاد چاہتا ہے۔‘‘

لیکن ان کے بہ قول ’’ جو لوگ افراتفری اورانارکی کے ماحول میں جینا چاہتے ہیں، وہ لیبیا میں انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتے ہیں۔ چناں چہ ملک کی اتھارٹی کا ہرفرد اپنے مفادات کے خوف میں مبتلا ہے اور انتخابات کے انعقاد سے انکار کر رہا ہے۔‘‘

عقیلہ صالح نے العربیہ سے گفتگو میں مزید کہا کہ انتخابات کو محفوظ بنانا قومی اتحاد کی حکومت (جی این یو) کی ذمے داری ہے۔اس کے قیام کے سمجھوتے میں لیبیا میں عرب، علاقائی اور بین الاقوامی نگرانی میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے آیندہ انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق سوال پر کہا کہ انھوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ انتخابی امیدوار ہوں گے یا نہیں۔

انھوں نے العربیہ کو بتایا:’’میں نے ابھی تک لیبیا میں آیندہ انتخابات میں بہ طور امیدوارحصہ لینے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔جب انتخابی کمیشن عام انتخابات کے بارے میں کوئی اعلان کرے گا تو میں بھی اپنی امیدواری سے متعلق اپنے مؤقف کا اعلان کروں گا۔‘‘

لیبیا کے متحارب مشرقی اورمغربی کیمپوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدے کے تحت جنگ زدہ ملک میں 24 دسمبر کو قانون سازاسمبلی اور صدارتی انتخابات ہوں گے۔