.

امریکہ کی افغانستان میں ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے اشارے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ میں ری پبلکن سینیٹرز کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا ہے جس میں 2001 سے 2021 کے دوران طالبان کو مبینہ طور پر پاکستان سمیت دیگر ذرائع سے ملنے والی مدد کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سینیٹ میں پیش کیے گئے بل کے تحت تجویز دی گئی ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کی مشاورت سے رپورٹ تیار کی جائے جس میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر بشمول پاکستان کی طرف سے طالبان کو ملنے والی مبینہ مالی مدد، محفوظ پناہ گاہیں اور سازو سامان اور تربیت کی مبینہ فراہمی کا جائزہ لیا جائے۔

پیر کو کانگریس میں پیش کیے جانے والے اس بل کو افغانستان کاؤنٹر ٹیررازم، اورسائٹ اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی ایکٹ 2021 کا نام دیا گیا ہے۔

بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے ممالک اور افراد جو 2001 سے 2021 تک طالبان کی حمایت کرتے رہے ہیں ان پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ مجوزہ بل پر امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے اہم ری پبلکن رُکن سینیٹر جم ریش سمیت 22 ری پبلکن اراکین کے دستخط ہیں۔

بل میں اس بارے میں ایک جامع رپورٹ مرتب کرنے کا کہا گیا ہے جس میں یہ تعین کیا جائے گا کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران اور 15 اگست کو کابل کا کنٹرول حاصل کرنے لیے کس نے طالبان کی مدد کی۔

اس مجوزہ بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ، دفاع اور انٹیلی جنس حکام اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کریں جو بل منظور ہونے کے 180 روز کے اندر کانگریس میں جمع کرائی جائے۔

ادھر پاکستان کے دفتِر خارجہ نے اس پر بل ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ بل میں پاکستان کے حوالے غیر ضروری اور افغانستان سے متعلق پاک، امریکہ تعاون سے متصادم ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف افغان امن عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کیا بلکہ حال ہی میں افغانستان سے انخلا کے عمل کے دوران بھی امریکہ کی بھرپور معاونت کی۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلسل یہ کہتا رہا ہے کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور صرف بات چیت ہی مسئلے کا حل ہے۔ لہذٰا امریکی سینیٹ میں ایسی قانون سازی کی کوشش "غیر ضروری اور مستقبل میں خطے میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کے تدارک کے لیے پاک، امریکہ تعاون کے لیے نقصان دے ہو سکتی ہے۔"

پاکستانی مبصرین کی بڑی تعداد نے بائیس امریکی سینیٹرز کی طرف سے افغانستان میں طالبان کو ملنے والی مدد کے حوالے سے تحقیقات کے مطالبے کو دباؤ بڑھانے کا ایک ہتھکنڈہ اور پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی سازش قرار دیا ہے۔

امریکی سینیٹ میں یہ بل ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستانی حکام سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان کی مدد میں حائل رکاوٹیں کیسے دُور کی جائیں۔

پاکستان کی حکومت افغانستان میں معیشت، سیکیورٹی اور انتظامی اُمور میں طالبان کی معاونت کے لیے مختلف اُمور پر غور کر رہی ہے۔ لیکن اسلام آباد کے لیے طالبان کی حکومت کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیے بغیر تیکنیکی اُمور میں معاونت میں مشکلات کا سامنا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کابل کو درکار اقتصادی و تیکنیکی ماہرین اور تربیت سمیت مختلف اُمور پر غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر عمر ایوب کے صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے علاوہ کئی دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں افغان عوام کی زندگی اور ذریعہ معاش کو جاری رکھنے کے لیے انسانی بنیادوں پر افغانستان کو فوری طور پر تیکنیکی اور مالی مدد فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ پاکستان نے ایک قابل عمل پالیسی وضع کرنے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈر کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے۔

طالبان کی جانب سے عبوری حکومت قائم کیے جانے کے بعد اُن کے لیے سب سے بڑا چیلنج اقتصادی طور پر ملک کو فعال رکھنے اور انتظامی امور چلانے کے لیے تربیت یافتہ افراد ی قوت کا فقدان ہے۔

پاکستان میں حکام اور ماہرین نے اس تشویش کا متعدد بار اظہار کیا ہے کہ اگر افغانستان کی فوری طور پر انسانی بنیادوں پر مدد نہ کی گئی تو افغانستان میں شدید اقتصادی اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کو خوارک کی کمی کا سامنا ہے۔