.

خلیج میں حزب اللہ کےمالیاتی نیٹ ورک پرامریکا،قطرکی پابندیاں،بحرین میں اکاؤنٹس منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اورقطر نے بدھ کو خلیج میں قائم حزب اللہ کے ایک بڑے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف ’’مربوط اقدامات‘‘کا اعلان کیا ہے۔

امریکا کے محکمہ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی مبیّنہ حمایت کے الزام میں سات افراد کو خصوصی طور پرعالمی دہشت گرد قرار دیے گئے (ایس ڈی جی ٹی) گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔

قطر سے تعلق رکھنے والی الدارپراپرٹیزکوعالمی دہشت گرد قرار دیے گئے افراد میں سے ایک کی ملکیتی ہونے،کنٹرول میں ہونے یا اس کی نگرانی میں چلنے کی بنا پردہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیاگیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ اقدام خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ایک رکن اورہمارے شراکت دار ملک کے ساتھ اب تک کے اہم ترین مشترکہ اقدامات میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے ہمارے درمیان موجود وسیع تر دو طرفہ تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

لبنان میں قائم حزب اللہ کو1997ء میں امریکا نے دہشت گرد تنظیم قراردیا تھا۔جی سی سی نے 2016 میں اس کے اقدام کی پیروی کی تھی اور اس شیعہ ملیشیا کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔متعدد یورپی اور جنوبی امریکا کے ممالک نے بھی اس گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

بلینکن نے کہا کہ حزب اللہ اپنی بدنام زمانہ سرگرمی کی حمایت کے لیے مالی معاونین او فرنٹ کمپنیوں کے عالمی نیٹ ورک کو استعمال کرتی ہے اوران کے ذریعے بین الاقوامی مالیاتی نظام کا بھی غلط استعمال کرنا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا اپنے اور بین الاقوامی مالیاتی نظاموں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں غلط استعمال ہونے سے بچانے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔

بلینکن نے بتایا کہ اس کارروائی کے ساتھ ساتھ بحرین کی حکومت نے حزب اللہ سے وابستہ بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں اور تین افراد کا معاملہ مزید کارروائی کے لیے اپنے دفترِاستغاثہ کو بھیج دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی حقیقی نوعیت کو اب بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے۔انھوں نے یورپ اور جنوبی اور وسطی امریکا کے 14 ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے،اس کی سرگرمیاں محدود کرنے یا اس پرپابندی لگانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔انھوں نے دیگر ممالک کی حکومتوں پر بھی زوردیا کہ وہ اس طرزِعمل کی پیروی کریں۔