.

دُنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈے پر کچھوے کی وجہ سے پروازیں تاخیر کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موسم کی خرابی، تکنیکی یا سکیورٹی اسباب کی بنا پر ہوائی اڈوں پر پروازوں کے تاخیر کا شکار ہونے کا تو سنا ہے مگر جاپان میں ایک کچھوا دنیا کے دوسرے مصروف ترین ہوائی اڈے پر پانچ پروازوں میں تاخیر کی وجہ بنا ہے جس پر اخبارات میں بھی اس کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔

کچھوے جس کا وزن صرف 2 کلو گرام تھا کو ٹوکیو کے قریب ناریتا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے پر آہستہ آہستہ رینگتے دیکھا گیا۔ کچھوے کو دیکھنے کے بعد ٹیک آف کے لیے تیار ایک طیارے کے ہواباز نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو کال کرکے مطلع کیا۔ انہوں نے رن وے کو صاف کرنے کے لیے عملہ بھیجا۔

عملے نے کچھوے کو ہٹایا اور 4000 میٹر رن وے کو دیگر غیر مشکوک اشیا کو چیک کیا جس میں 15منٹ لگے اور پانچ پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کچھوا ہوائی اڈے کے اسٹوریج ٹینک سے آیا ہو گا جو رن وے سے تقریبا 100 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

فضائی کمپنیوں نے کچھوے کے رن وے پر آنے اور پروازوں کی تاخیر کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ کچھوے کا سامنے آنا خوش قسمتی کی علامت ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں فضائی سروس کا مستقبل روشن ہے۔

ان طیاروں میں سے ایک آل نپون ایئر ویز کا ایئربس اے 380 تھا جس کے بیرونی حصے پر نیلے سمندری کچھوے کا ڈیزائن بنایا گیا تھا۔

مینیچی اخبار نے بتایا کہ ہوائی اڈے کے کارکنوں کو کبھی کبھار رن وے سے آوارہ بلیوں، کتوں اور خرگوشوں کو ہٹانے کے لیے بلایا جاتا تھا لیکن کچھوے بہت کم رن وے پر ہوتے ہیں۔

خبر رساں ویب سائٹس نے ایک ہوائی اڈے کے اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ کچھوے نے رن وے کے قریب ٹینک سے رینگتے ہوئےخود کو دھوپ میں لانے کی کوشش کی تھی کیونکہ چند روز قبل موسم نسبتا گرم تھا۔

ہوائی اڈے کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلوم کریں گے کہ یہ کس قسم کا کچھوا تھا اور فیصلہ کریں گے اسے اس کے قدرتی مسکن میں واپس لایا جا سکتا ہے یا نہیں۔