.
یمن اور حوثی

سعودی ولی عہد کاامریکا کے مشیربرائے قومی سلامتی سے یمن جنگ پر تبادلہ خیال

یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے سعودی امن اقدام کا اعادہ،حوثیوں سے ہادی حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے ساتھ یمن میں جاری تنازع کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مملکت کے پیش کردہ امن اقدام کا اعادہ کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے ) کے مطابق ولی عہد نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمن میں جامع جنگ بندی کی اہمیت پرزور دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس جامع جنگ بندی کے تحت تیل بردار بحری جہازوں کو یمن کی بحیرہ احمر کے کنارے واقع بندرگاہ الحدیدہ سے گذرنے کی اجازت ہونی چاہیے،دارالحکومت صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرانسانی امدادی سامان لے کر آنے والی پروازوں کواترنے اجازت دی جائے،اس کے علاوہ وہاں سے بعض مقامات کےلیے تجارتی مسافر پروازیں چلانے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

شہزادہ محمد اور جیک سلیوان نے یمنی حوثیوں پر زوردیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمن کی بین الاقوامی سطح پرتسلیم شدہ حکومت کے ساتھ بحران کے سیاسی تصفیے کے لیے نیک نیتی سے مذاکرات کریں۔

جیک سلیوان نے امریکا کی جانب سے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سمیت تمام خطرات سے نمٹنے کی غرض سے سعودی عرب کے اپنے تحفظ اور دفاع کے لیے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنگ زدہ یمن کے شمال سے سے حوثیوں نے اس سال جنوری سے سعودی عرب پر اپنے ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے تیزکررکھے ہیں اور انھوں نے سرحد پارسے سعودی علاقوں پر بیسیوں فضائی حملے کیے ہیں۔حوثی ملیشیا نے دھماکاخیزمواد سے لدے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے مملکت میں شہری علاقوں،شہری ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے جنوری میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوثی ملیشیا اور اس کے لیڈروں کودہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ منسوخ کردیا تھا۔ صدر بائیڈن نے فروری میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی حوثیوں کے خلاف کارروائیوں کی حمایت ختم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔عرب اتحاد 2015 سے یمن میں صدرعبدربہ منصورہادی کی حمایت میں حوثی ملیشیا کے خلاف نبرد آزما ہے۔

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا،خواہ امریکا اس گروپ کو اس طرح دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ کرتا ہے یا نہیں۔