.

فلم ’جیمزبانڈ‘ کے کرداروں میں الجزائری ہیرو دالی بن صالح کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں فلم اور ایکشن فلم سے محبت کرنے والوں کی توجہ آج کل جیمز بانڈ کی تازہ ترین فلم’’ نو ٹائم ٹو ڈائے ‘‘ کے پریمیئر پر مرکوز ہے جوکرونا وبا کی وجہ سے مہینوں کی تاخیر سے سامنے آ رہی ہے۔ جیمز بانڈ کی تازہ فلم کی ایک اہم بات الجزائر کے اسٹار دالی بن صالح نامی ایک اہم کردار ہیں جو اس فلم میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

فلم کی ریلیز کی اصل تاریخ جو کہ ایم جی ایم یونیورسل پکچرز کے ذریعہ تیار کردہ اشتہار کےمطابق اپریل 2020 تھی لیکن کوویڈ 19 کے باعث دنیا بھر کے سینما گھروں کو اپنے دروازے بند کرنے یا سامعین پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد کئی بار ملتوی کیا۔

"میں جیمز بانڈ بننے کا خواب دیکھتا ہوں"

کہا جاتا ہے کہ جو بھی خواہش کے حصول کی کوشش کرے گا وہ لامحالہ اسے پائےگا۔ دالی بن صالح کا بھی کچھ ایسا ہی واقعہ ہے۔ اس نےٹویٹر پر 2019 میں ایک ویڈیو میں نشر کی جس میں اس نے کہا تھا "میرا نام دالی بن صالح ہے ،میں فرانسیسی اور الجزائرہوں۔ جب میں ایک بچہ تھا تو میں جیمز بانڈ بننے کا خواب دیکھا تھا۔ جب میں بیس سال کا تھا ، ایسا لگتا تھا کہ یہ صرف ایک مذاق ہے‘۔

29 سالہ بن صالح نے اپنا خواب سچ اور عزائم کو پورا کیا اور جیمز بانڈ کی تازہ ترین سیریز میں ایک اہم کردارحاصل کرکے ثابت کیا کہ مسلسل محنت اور کوشش سے منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔ جیمز بانڈ دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش فلموں میں سے ایک ہے کیونکہ فلم (سپیکٹر) کی آمدنی 880 ملین ڈالر تھی جو2015 میں تیار کیا گیا تھا (اسکائی فال) کی آمدنی ایک ارب سے تجاوز کر گئی۔

تعارف، تعلیم اور شہریت

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے الجزائری جیمزبانڈ کردار دالی بن صالح کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔ بن صالح کے بارے میں جو معلومات ملتی ہیں اس میں ہالی وڈ اسٹار پروجیکٹ کی موجودگی ، خوبصورتی ، عزم اور استقامت ظاہر ہوتا ہے۔ حالانکہ اسے ابھی تک انعامات نہیں ملے۔ ستائیس سال کی عمر میں وہ چند سالوں کے اندر عالمی شہرت یافتہ جیمز بانڈ سیریز کی ایک فلم میں اہم کردار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا یہ بھی اس کے لیے ایک اعزاز ہے۔

بہت سے ماہرین متفقہ طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ اس کی خوبصورتی ،محنت سے محبت ، اس کا ہنر ، اداکاری کے خصوصی اسباق جس کی وہ پیروی کرتا ہے ، اس کی خواہش اور زندگی کی قسمت مشترکہ عوامل ہیں جو اسے اپنے خوابوں کی تعبیر کی اجازت دیتے ہیں۔ اسے اب بھی ابھرتے ہوئے ستاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے ، جس کی پیش گوئی بہت سے ماہرین کرتے ہیں اور فالو اپ ، مزید ترقی اور کامیابی کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔

یہ نوجوان ستارہ 8 جنوری 1992 کو پیرس سے 350 کلومیٹر دور "رین" شہر میں پیدا ہوا۔ وہ ایک ہی وقت میں الجزائری اور فرانسیسی شہریت رکھتا ہے۔ اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بھی خود کو الجزائری اور فرانسیسی کہا ہے۔

اس نے ثانوی تعلیم کا امتحان پاس کرنے کے بعد رین شہر میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجوایشن کے لیے داخلہ لیا تاہم وہ تعلیم کا یہ مرحلہ مکمل نہیں کرسکا۔

باکسنگ

متوازی طور پر اس نے تھائی لینڈ میں باکسنگ کی مشقیں شروع کردیں۔ تھائی لینڈ میں اس فن کو "موئے تھائی" کہا جاتا ہے جسے"آٹھ اعضاء کا فن" بھی قرار دیاتا جاتا ہے کیونکہ یہ ہاتھوں ، کہنیوں ، ٹانگوں اور گھٹنوں کے استعمال کا ایک کھیل ہے۔

اس نے مختلف ٹورنامنٹس میں حصہ لیا۔ یہاں تک کہ اس خاص کھیل میں فرانسیسی چیمپئن شپ میں سے ایک جیتنے میں کامیاب رہا۔ تب اس کی عمر انیس سال تھی۔

اس نے اس وقت کہا کہ کھیلوں کا سہارا لینا ، تشدد کو چھوڑنے کا بہترین طریقہ ہو سکتا ہے۔

اس نے 2012 میں رینس یونیورسٹی چھوڑ دی اور پیرس میں ڈرامائی اور تھیٹر اداکاری کے معزز "لیس کوورس فلورنٹ" اسکول میں شمولیت اختیار کی۔ فلمی میدان میں کام کرنے کی شدید خواہش کی وجہ سے 2015 میں اس سے فارغ التحصیل ہوا۔

ساتھ ہی اس نے 2014 اور 2015 کے درمیان نیشنل تھیٹر "لا کولینا" میں اداکار اور تھیٹر ڈائریکٹر "سٹینلاسس نورڈی" کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ ورکشاپ کا کورس کیا۔ یہ تھیٹر فرانسیسی وزارت ثقافت کے تعاون سے کام کرتا تھا۔

اس نے اس انٹرن شپ اسٹراس برگ کے نیشنل تھیٹر میں 2015 اور 2016 کے درمیان مکمل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایویگن کے لا فیبریکا سینٹر میں مصنف ، ہدایت کار اور اداکار اولیویر بی کے ساتھ بھی کام کیا۔

موسیقی

بن صالح نے فرانسیسی الیکٹرانک میوزک گروپ "دی بلیز" میں شمولیت اختیار کی۔ یہ میوزک گروپ "جوناتھن اور گیلوم ایلریک" کے زیر انتظام ہے۔ 2017 میں الجیریا میں پیش کیے گئے تال گانے "ٹیریٹری" کے منظر میں قابل ذکر شرکت کی ، جس میں اس نے ثابت کیا ایک الجزائری تارکین وطن کا کردار جو اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے درمیان اپنے ملک واپس لوٹنے کا جشن منا رہا ہے۔

فنون کا باپ

دالی بن صالح کوسنہ2014 کے بعد سے کئی ڈراموں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ خاص طور پر تاریخی مصنف "مولیئر" کا ڈرامہ "لیفربری ڈی اسکاپین" ، نوٹری ڈیم تھیٹر میں "ٹائیگران میختاریان" کی ہدایت کاری میں "سلویسٹر" کے طور پر 2016 میں اور 2018 میں "اویگون" میلے میں "اولیوی بی" کی ہدایت کاری میں شاعرانہ ڈرامہ "پور بریزان" میں اسے کام کا موقع ملا۔

سیریز

دالی بن صالح نے 2017 میں تونسی نژاد فرانسیسی ڈائریکٹر "مبروک المشری" کی ہدایت کردہ سیریز "ناکس" میں حصہ لیا ، جسے فرانسیسی چینل "کینال پلس" پر دکھایا گیا۔ سنہ 2019 میں سیریز "لیس ساویج" ، پولش نژاد فرانسیسی "ربیکا زلوٹسکی" اور الجزائر نژاد فرانسیسی مصنف "صابری لوواٹا" ، "کینال پلس" چینل پر ، بہت زیادہ کامیابی کے ساتھ ملی۔ "الجیریا خفیہ" 2020 میں ، "آرٹ" چینل پر چلائی گئی سیریز تھی۔

ساتواں فن

اس نے متعدد مختصر فلموں میں حصہ لیا۔ان میں سنہ 2015 میں جول تالبو کی "سلاد ، ٹماٹر اور پیاز"، 2017ء میں لیو بیگاوی کی"میں ایک زخم ہوں" ، 2018 میں "الوداع ٹام سیلیک" جیسی شارٹ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

کارمین الیسینڈرینی "انٹر رائے" میں "صفیان" کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم جولائی 2018 میں ریلیز ہوئی۔لوئس گیریل کی ہدایت کاری میں بنائی گئی فلم ’لوم فیڈیل یا مخلص مرد‘ کیری جیمز کی’بانلیوزار2019ء میں لیلی سی اور 2020ء میں ریلیز ہونے والی فلموں میں حصہ لیا۔