.

ارب پتی والٹن خاندان کے وال مارٹ میں ساڑھے چھ ارب ڈالر کے حصص کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک ارب پتی والٹن خاندان نے سال ہا سال سے اپنی دولت تو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھی تھی مگر وہ وال مارٹ میں اپنی ساڑھے چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور حصص کو مخفی نہیں رکھ پائے۔

والٹن خاندان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 2020ء کے دوران وال مارٹ میں تقریبا 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کے حصص فروخت کیے ہیں۔

بلوم برگ ارب پتی انڈیکس کے مطابق والٹن خاندان دُنیا کا امیر ترین خاندان ہے ، جس کی دولت 238 ارب ڈالر ہے۔ اس دولت کا تقریبا آدھا حصہ دنیا کے سب سے بڑے ریٹیل کے کارو باری ہیں۔ ان کی کمپنی سیم والٹن 1950 میں قائم کی گئی تھی۔

’ڈبلیو آئی ٹی ایل ایل سی‘ نے رواں سال والٹن فیملی کے اثاثوں کو منظرعام پر لانا شروع کیا تو اس کے بعد اس خاندان نے حصص کے لیے منتخب کی گئی اسٹاک کمپنی کا انکشاف کیا۔ کپمنی میں اس کے حصص کا مخفف "والٹن انویسٹمنٹ ٹیم" کے نام سے قائم ہے۔

والٹن خاندان نے زیادہ تر رقم کم قیمت کے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز مثلا وانگارڈ ایمرجنگ مارکیٹس اور قلیل مدتی ای ٹی ایف میں لگائی گئی تھی لیکن اس خاندان نے اپالو گلوبل مینجمنٹ ، سنو فلاک اور چین کے پینڈوڈو جیسی کمپنیوں میں بھی حصص کا انکشاف کیا۔

اگرچہ ایک عوامی کمپنی کے لیے کاروبار میں ان کا حصہ غیر معمولی حد تک بڑا ہے۔حالیہ برسوں میں ریٹیل فروش بینٹن ول کے حصص کی خریداری کے لیے ان کی ملکیت کا فیصد مستحکم رکھنے کے لیے اپنے اسٹاک کا کچھ حصہ بیچنے پر مجبور کیا۔ اس نے بدلے میں فیملی آفس اور والٹن فیملی فاؤنڈیشن کو نقد رقم سے بھر دیا۔

خاندان کے اراکین نے اپنی سرمایہ کاری اور فلاحی کاموں کے بارے میں معلومات کا اشتراک کرنے کے لیے آمادگی بھی ظاہر کی۔

والٹن کارپوریشن کے ایک نمائندے نے بتایا کہ والٹن خاندان کے پرنسپل آفس نے تصدیق کی کہ WIT خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کرنے والا ایک ذیلی ادارہ ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ کموڈیٹیز کمیشن کی فائلنگ کے مطابق کئی ماہ قبل والٹن فیملی آفس نے خوردہ کمپنی میں خاندانی حصص کو ختم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ایک علیحدہ ٹرسٹ میں 48 بلین ڈالر منتقل کیے۔

والٹن فاؤنڈیشن اپنے کل اثاثوں کو ظاہر نہیں کرتی ، حالانکہ نجی ٹرسٹ کے ٹیکس ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خاندان ٹائیگر گلوبل مینجمنٹ اور وائکنگ گلوبل انویسٹرز کے زیر انتظام ہیج فنڈز میں حصص کا مالک ہے۔

والٹن فاؤنڈیشن نے اس نام سے کبھی نام نہاد 13f سہ ماہی رپورٹ پیش نہیں کی۔ دیگر ہائی پروفائل فیملی دفاتر ، بشمول رینیسنس ٹیکنالوجیز کے بانی جیمز سیمنز باقاعدگی سے رپورٹس پیش کرتے ہیں۔