.

ایران پڑوسی ملک آذربائیجان کی سرحد کے نزدیک فوجی مشق کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی فوج نے جمعہ کو آذربائیجان کی سرحدکے ساتھ واقع علاقے میں فوجی مشق کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایران اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات میں تناؤپایا جاتا ہے اور اب ایرانی فوج کی مشق سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے جمعرات کو بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل کیومارس حیدری کے حوالے سے بتایا کہ یہ مشق شمال مغربی ایران میں ’’حربی تیاریوں کی جانچ اورانھیں بہتربنانے کے مقصد‘‘ سے کی جائے گی۔

مسلمانوں اوریہودیوں کے درمیان 628 عیسوی میں برپا ہونے والے معرکہ خیبرکے حوالے سے اس مشق کو’’فاتح خبر‘‘کا نام دیا گیا ہے۔آذربائیجان صہیونی ریاست اسرائیل سے اسلحہ کا بڑا خریدار ملک ہے۔اس بنا پرایران آذربائیجان کے ساتھ تعلقات میں محتاط رہا ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں آذری صدرالہام علیوف نے ایران کو اپنے ملک کی سرحدکے قریب فوجی مشقیں کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایاہے مگر اس کے باوجود ایران نے یہ مشق کرنے کا اعلان کیا ہے۔

’اب کیوں؟ اور ہماری سرحد پر کیوں؟‘

صدرعلیوف نے گذشتہ سوموار کو ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ’’ ہر ملک اپنے علاقے میں کوئی بھی فوجی مشق کرسکتا ہے۔ یہ ان کا خودمختارانہ حق ہے لیکن ایران اب کیوں، اور ہماری سرحد ہی پرکیوں یہ مشق کررہا ہے؟‘‘

انھوں نے کہاکہ ’’جب آرمینیائی جبرائیل، فزولی اور زنگیلان کے علاقوں میں تھے تو مشقیں کیوں نہیں کی گئیں؟ ان علاقوں کو30 سال کے قبضے کے بعد آزادکرانے کے بعد ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟‘‘

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز کہا کہ ’’آذربائیجان کے ساتھ سرحد کے قریب ہونے والی فوجی مشقیں ’’خودمختاری کا سوال‘‘ہیں،تہران اپنی سرحدوں کے قریب صہیونی حکومت کی موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا۔‘‘

ترجمان نے اسرائیل کے ساتھ آذربائیجان کے تعلقات کا حوالہ دیا تھا۔واضح رہے کہ ایران اورآذربائیجان کے درمیان واقع سرحد قریباً 700 کلومیٹر(430 میل) طویل ہے۔

ایران میں آذری نسل کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ان میں کی اکثریت ملک کے شمال مغربی علاقوں میں رہتی ہے۔آذری ایران کا سب سے بڑا اقلیتی گروپ ہیں۔