.

سعودی عرب:2021ء کی دوسری سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح میں معمولی کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں افرادی قوت کے تازہ سروے کے مطابق 2021ء کی دوسری سہ ماہی میں کام کرنے والی کل آبادی (15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے سعودی شہری اورغیر سعودی مکین) میں بے روزگاری کی شرح کم ہوکر 6.6 فی صد رہ گئی ہے جبکہ 2020 کی دوسری سہ ماہی میں یہ شرح 9 فی صد تھی۔

2021ء کی دوسری سہ ماہی میں سعودی شہریوں (15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مردوخواتین) میں بے روزگاری کی مجموعی شرح کم ہو کر 11.3 فی صد رہ گئی ہے۔ اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران میں یہ شرح 11.7 فی صد تھی جو گذشتہ 10 سال کے دوران میں کم ترین سطح تھی۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں افرادی قوت کی صورت حال سے متعلق یہ تازہ اعدادو شمار جنرل اتھارٹی برائے شماریات (جی اے ایس ٹی اے ٹی) نے جمعرات کو جاری کیے ہیں۔

ڈیٹا کے دوذرائع

لیبرمارکیٹ کے اعدادوشمار دو اہم ذرائع حاصل کردہ ہیں۔ پہلا ذریعہ افرادی قوت کا سروے (ایل ایف ایس) ہے۔یہ سروے منتخبہ نمونے میں شامل گھرانوں سے کیا جاتا ہے اور ادارہ شماریات خود یہ سروے کرتا ہے۔فون کے ذریعے نمونے میں شامل گھرانوں سے ان کے آمدن وخرچ اور روزگار سے متعلق معلومات جمع کی جاتی ہیں۔

اس سروے میں لیبرفورس کے اندراورباہر کی آبادی کے تخمینے فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ لیبرمارکیٹ کے سب سے اہم اشارے بھی فراہم کرتا ہے، جیسے بے روزگاری کی شرح اور افرادی قوت میں شرکت کی شرح وغیرہ۔

ڈیٹا کے حصول کا دوسرا ذریعہ انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت، قومی اطلاعاتی مرکز، جنرل آرگنائزیشن برائےسوشل انشورنس سمیت دیگراداروں کے انتظامی اعداد و شمار ہیں۔

رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں سعودی مردوں میں بے روزگاری کی شرح کم ہوکر6.1 فی صد ہوگئی ہے جبکہ 2021ء کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 7.2 فی صد تھی۔ 2021ء کی دوسری سہ ماہی میں سعودی خواتین میں بے روزگاری کی شرح 22.3 فی صد رہی ہے۔

سروے کے نتائج سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ 2021 کی دوسری سہ ماہی کے دوران میں کام کرنے کی عمرکی تمام آبادی (15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے سعودی اور غیر سعودی) کی لیبرفورس میں شرکت کی شرح 60.8 فی صد تک پہنچ گئی ہے جبکہ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 61.1 فی صد تھی۔

مزید برآں سروے کے نتائج سے پتاچلتا ہے کہ 2021 کی دوسری سہ ماہی میں کام کرنے کی عمرکو پہنچنے والے تمام مردوں کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح 79.2 فی صد ہوگئی ہے۔

دوسری سہ ماہی کے دوران میں کام کرنے کی عمر کو پہنچنے والی تمام خواتین کی لیبرفورس میں شرکت کی شرح بڑھ کر 33.8 فی صد ہوگئی ہے جبکہ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 33.6 فی صد تھی۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی عرب 2016ء سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقتصادی اصلاحات پرزور دے رہا ہے اور اس کا مقصد 2030 تک مملکت میں بے روزگاری کی شرح کو کم کرکے 7 فی صدتک لانا ہے لیکن ان منصوبوں پر عمل درآمد میں کووِڈ-19 کی وبا نے خلل ڈالا ہے۔اس وباکے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہوکر رہ گئی ہیں جس سے سعودی معیشت متاثر ہوئی ہے۔

ممالک کی درجہ بندی کرنے والی ایجنسی ایس پی گلوبل ریٹنگز نے اسی ہفتے کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ 2021ء سے 2024ء کے درمیان میں سعودی عرب کی اوسطاً شرح نمو2۰4 فی صد رہےگی۔ تاہم عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق رواں سال سعودی معیشت کی شرح نمو2۰1 فی صد رہے گی جبکہ 2020ء میں شرح نمو 4۰1 فی صد رہی تھی۔