.
یمن اور حوثی

حوثیوں کے کیمپوں میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور برین واشنگ جیسے گھناؤنے جرائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں وزارت انسانی حقوق کی مشاورتی کمیٹی کی خاتون رکن ایڈوکیٹ زعفران زائد نے حوثی ملیشیا کی جانب سے ملک میں پھیلائے جانے والے بھرتی کیمپوں سے خبردار کیا ہے۔

آج جمعے کے روز ٹوئٹر پر جاری وڈیو بیان میں زعفران کا کہنا تھا کہ مذکورہ کیمپوں میں ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں کا کوئی یقین نہیں کر سکتا۔

خاتون ایڈوکیٹ کے مطابق کیمپوں میں بچوں کے خلاف مرتکب جرائم میں مار پیٹ، تذلیل و توہین، تشدد اور بھوکا رکھنا شامل ہے۔

البتہ زعفران زائد نے زور دے کر کہا کہ ان سب سے زیادہ خطر ناک بات یہ ہے کہ حوثیوں کے عسکری کیمپوں میں کئی بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض بچوں کے گھر والے بدنامی کے خوف سے اس نیچ بات کو نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ بعض بچوں کے اہل خانہ اس کو اہمیت نہیں دے رہے۔

دوسری جانب یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اسکولوں میں یمنی بچوں کی "برین واشنگ" کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ الاریانی کا یہ موقف جعمرات کے روز سلسلہ وار ٹویٹس میں سامنے آیا۔

یمنی وزیر نے ٹویٹس میں متعدد وڈیو کلپس بھی شیئر کیے۔ ان وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حوثی ذمے داران طلبہ کے ذہنوں میں اس طرح ملیشیا کے افکار اور نظریات کا زہر انڈیل رہے ہیں گویا کہ عقل و منطق کا کوئی وجود ہی نہیں۔

الاریانی کے مطابق حوثی ملیشیا اسکولوں کا استحصال کر کے طلبہ کی برین واشنگ اور ان کے ذہنوں میں شدت پسندانہ دہشت گرد افکار کی بھرائی انجام دے رہی ہے۔ اس کا مقصد بچوں کو لڑائی کے محاذوں پر جنگ کا ایندھن بنانا ہے تا کہ خطے میں ایران کے توسیعی منصوبے کو پایہ تکمیل پہنچایا جا سکے۔

یاد رہے کہ کئی سابقہ شہادتوں اور انسانی حقوق کی رپورٹوں سے اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ حوثی ملیشیا نے بچوں کے ذریعے مدد حاصل کی۔ اسی طرح یہ بات بھی مصدقہ ہے کہ لڑائی کے محاذوں پر 18 برس سے کم عمر بچے بھی مارے گئے۔ ان بچوں کو ایران نواز ملیشیا نے جنگ کی آگ میں جھونکا تھا۔