.
افغانستان وطالبان

طالبان کا خوف ، مصوروں نے اپنے فن پارے دفنانے اور جلانے شروع کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ ماہ اگست کے وسط میں دارالحکومت کابل پر تحریک طالبان کے کنٹرول کے بعد سے ہزاروں افغان مصور، فن کار اور مصنفین یا ملک سے باہر فرار ہو گئے اور جو ایسا نہ کر سکے وہ اپنے گھروں میں روپوش ہو گئے ہیں۔

ماضی میں طالبان کے پہلے دور حکومت کو مد نظر رکھتے ہوئے سیکڑوں افغان فن کاروں نے بالخصوص جو خواتین کی تصاویر بناتے ہیں ،،، انہوں نے اپنے فن پاروں کو یا تو دفن کر دیا اور یا پھر نذر آتش کر دیا۔

کئی افغان مصوروں نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو میں گواہی دی کہ انہوں نے اپنے فن پاروں کو زیر زمین دفن کر دیا ہے تا کہ وہ طالبان تحریک کے عناصر کے ہاتھ نہ لگیں۔

ملک سے باہر فرار ہو جانے والے ایک فلم ڈائریکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے طالبان کے خوف سے 20 فلموں پر مشتمل ایک سی ڈی زمین میں دبا دی۔

اسی طرح افغان خاتون ڈائریکٹر صحرا کریمی نے زور دے کر کہا کہ اگر فن کار اپنے خیالات کے اظہار میں آزاد نہیں تو اس فن کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی !

علاوہ ازیں آلات موسیقی فروخت کرنے والی دکانیں اور کئی فنی نمائشیں بندش کا شکار ہو چکی ہیں۔

اسی طرح شادیوں کی تقریبات موقوف ہو گئی ہیں اور شادیوں میں فن کا مظاہرہ کرنے والے گلوکاروں کے گروپ بھی کام سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بہت سے شادی ہالوں نے طالبان کے غضب سے بچنے کے لیے اپنے ہاں مقررہ "موسیقی" کے پروگراموں کو منسوخ کر دیا ہے۔

کابل میں فائن آرٹس انسٹی ٹیوٹ (یہ ایک سرکاری ادارہ ہے) کے ڈائریکٹر صفی اللہ حبیبی نے واضح کیا ہے کہ طالبان نے ابھی تک فنون کے حوالے سے کوئی بیان یا ہدایات جاری نہیں کی ہیں تاہم فن کاروں نے خود سے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔ ان کا خیال ہے طالبان اپنی سابقہ پالیسیاں پھر سے لاگو کریں گے۔