.

ملاوی کے سابق رکن پارلیمنٹ کی پارلیمان کے اندر خود کشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملاوی میں خود کشی کا ایک ایسا عجیب اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک رکن پارلیمنٹ نے ایوان میں اپنے سرمیں گولی مار کراپنی جان لے لی۔

بہ ظاہر اس واقعے مشرقی افریقی ملک ملاوی کے رکن پارلیمنٹ کے ایک قانونی بل پراختلاف کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں اس نے اپنے حقوق پر قانونی تنازع کے باعث خود کو گولی ماری بتایا جاتا ہے۔

پولیس کے ترجمان نے بتایا سابق رکن نے جمعرات کو دارالحکومت لِلونگ وے میں پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر خودکشی کی۔ وہ آتشیں اسلحہ پارلیمنٹ کے کلرک کے دفتر میں لے کر آیا جہاں اس نے خود کو گولی ماری۔

ملاوی پولیس سروس کے ترجمان جیمز کادزیرا نے کہا کہ سابق پارلیمنٹیرین کلیمنٹ چیوایا معمول کی سیکیورٹی چیک کے باوجود عمارت میں اسلحہ کے ساتھ داخل ہوئے تھے۔

’سی این این‘ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ چیوایا معذور تھے اور وہیل چیئر استعمال کر رہے تھے۔چیکنگ کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس میں میٹل ڈٹیکٹر نے دھاتی اشیاء کی نشاندہی کی مگر عملے نے سمجھا کہ وہیل چیئر کی ہے۔اس لیے انہیں اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

50 سالہ سابق رکن پارلیمنٹ نے 2004 سے 2019 تک ملاوین پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے مسلسل تین مرتبہ خدمات انجام دیں۔ 2014 اور 2019 کے درمیان ایک مدت کے لیے وہ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے۔

حقوق کے حوالے سے قانونی جنگ

پارلیمنٹ میں ایک اسسٹنٹ کلرک ایان موینی چیوایا کے خودکشی کے مقصد کی تصدیق نہیں کر سکا لیکن پارلیمنٹ کی جانب سے ایک سابقہ بیان میں سابق رکن پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے درمیان فوائد اور حقوق کے حوالے سے جاری قانونی تنازع کو اجاگر کیا گیا۔

پارلیمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے وقت عدالت میں ان کی گاڑی سے متعلق ایک مقدمہ زیر التوا تھا جو ایکسیڈنٹ ہوگئی تھی جبکہ ملکیت کی منتقلی مکمل نہیں ہوئی تھی اور انشورنس کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ایوان نمائندگان اس معاملے پر کام کر رہا تھا توسابق ڈپٹی اپریل 2020 میں اٹارنی جنرل کے دفتر گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ محتسب کے دفتر میں بھی پیش کیا گیا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شکایات کی تحقیقات کرنے والی ایک پبلک باڈی محتسب کے فیصلے کو بعد میں ملاویائی عدالت نے نظر انداز کر دیا تھا۔