.

کابل کا المیہ:بیٹی کے علاج کے لیے افغان خاتون بچے کوفروخت کرنے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان کے ملک پرکنٹرول حاصل کرنے کےبعد ملک میں حالات اب بھی بدستور خراب ہیں اور آئے روز جنگ زدہ علاقوں سے کسی نئے المیے کی خبریں آتی ہیں۔

کابل سے آنے والے تازہ المیے پرمبنی ایک خبر یہ ہے کہ صوبہ بغلان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اپنی تیرہ سالہ بیمار بچی کے علاج کے لیے اپنے ہی لخت جگر کوفروخت کرنے پرمجبور ہوگئی۔

جنگ کے نتیجے میں بغلان سے نقل مکانی کرکے کابل کے ایک کیمپ میں پناہ لینے والی خاتون ام لیلوما نے بتایا اس کے پاس بیٹی کے علاج کے لیے بچے کو بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ اس نے غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر بچے کو330 امریکی ڈالرمیں فروخت کیا۔

افغان ’طلوع نیوز‘ چینل کے مطابق ام لیلوما نے بتایا کہ اس کا شوہر گذشتہ ایک سال سے لاپتا ہے اور اس کے خاندان کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں۔ اس کی ایک 13 سالہ بیٹی بیمار ہے جس کے علاج کے لیے اسے رقم کی ضرورت تھی مگر اسے بچی کے علاج کے لیے اپنے ڈیڑھ سال کے بچے کو فروخت کرنا پڑا۔

ام لیلوما افغانستان کی واحد خاتون نہیں جو جنگ کی وجہ سے حال کو پہنچی ہیں۔ اس وقت ہزاروں خاندان اسی طرح کی مشکل زندگی کا شکار ہیں اور وہ بیرونی امداد پر انحصار پرمجبور ہیں۔

عارضی پناہ گزین کیمپوں میں پناہ گزینوں مناسب طبی سہولیات اور خوراک نہیں مل رہی جب کہ موسم کی شدت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ افغانستان میں اب موسم سرد ہو رہا ہے اور آنے والے حالات اور خراب ہوسکتے اور مشکلات اور بڑھ سکتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کی وزارت برائے پناہ گزین کے عہدیداروں نے پناہ گزین کیمپوں کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا ہے تاہم ابھی تک پناہ گزینوں کو کسی قسم کی امداد نہیں مل سکی۔

تخار سے تعلق رکھنے والی عائشہ نامی ایک پناہ گزین خاتون نے بتایا کہ اگر حالات اسی طرح خراب رہے توہم فاقہ کشی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

کابل میں لوگ عارضی خیموں میں رہنے پرمجبور ہیں۔

افغانستان میں خوراک کا بحران

گذشتہ ستمبر میں اقوام متحدہ نے افغانستان میں خوراک کے بحران کے بارے میں خبردار کیا تھا اور کہا کہ خوراک کا ذخیرہ جلد ختم ہو سکتا ہے۔

افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ رمیز الاکبروف نے بتایا کہ پانچ سال سے کم عمر کے آدھے سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو مناسب خوراک نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم افغانستان کو ایک اور انسانی تباہی سے بچنے سے روکیں تاکہ اس ملک کو ضروری اشیاء کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔

ان لوگوں کے لیے خوراک ، صحت ، تحفظ اور غیر خوراکی خدمات کی مدد کریں جن کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔" اس نے شامل کیا.

آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق ، "دی ہنگر وائرس ضرب" ، جو اس سال کے شروع میں جاری کیا گیا تھا ، افغانستان دنیا کے بدترین بھوک ہاٹ سپاٹ میں سے ایک ہے جو تنازعات کا شکار ہے۔