.

ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا نہیں رکھا جا سکتا: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر ویانا میں مذاکراتی عمل کے کئی ماہ سے تعطل اور یورپی ملکوں کی طرف سے مذاکرات کی بحالی کے مطالبات کے جلو میں فرانس نے ایک بار پھر تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازع پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژان ایف لی ڈریان نے ہفتے کے روز کہا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔

انہوں نے العربیہ/الحدث چینلوں کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی ڈی فیکٹو اقدامات ویانا میز پر واپسی کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

ان کا خیال تھا کہ تہران کے ساتھ علاقائی سطح پر مذاکرات میں تہران کی میزائل سرگرمیاں شامل ہونی چاہئیں۔

'چین پر اعتماد کا اظہار'

فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق دو دن پہلے فرانس نے چین سے کہا کہ وہ ایران پر ویانا مذاکرات میں جلد واپس کے لیے زور ڈالے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان این کلیئر لوگنڈر نے ایک ویڈیو کانفرنس میں کہا کہ ہم تہران کے ساتھ نجی بات چیت میں سب سے زیادہ قائل کن دلائل استعمال کرنے کے لیے چین پر اعتماد کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا بیجنگ تہران کے ساتھ بات چیت کے لیے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے؟ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گذشتہ جون سےتعطل کا شکار مذاکرات کی میز پر بغیر کسی تاخیر کی واپسی ہمارے مشترکہ مفادات سے ہم آہنگ ہونے کا واحد راستہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی انتظامیہ نے پہلے اپنے وزیر خارجہ انٹنی بلنکن کے ذریعے کہا تھا کہ گیند اب تہران کے کورٹ میں ہے لیکن یہ زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جلد مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔