جنگ سے تنگ عالمی میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والی یمنی خواتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں جہاں ایک طرف جنگ اور تباہی کی داستانیں جا بجا بکھری ہوئی ہیں۔ وہیں جنگ کے ملبے اور تباہ کاریوں سے بھاگنے والی ملکہ بلقیس، قوم سبا اور ارویٰ کے دیس کی خواتین نے شوبز، سائنس، طب، صحافت اور دیگر شعبوں میں عالمی سطح پر اپنی نمایاں خدمات انجام دے کریہ ثابت کیا ہے کہ یمنی خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

یمن کی خواتین نے عالمی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دینے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ خواتین سائنسی ایجادات، علم وہنر، طب، لٹریچر، آرٹ، وکالت، پروڈکشن اور کئی دوسرے شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دے کرکئی گولڈ، سلور اور دوسرے میڈل بھی جیت چکی ہیں۔

انہوں نے توپوں، ٹینکوں، گولہ باری اور تباہی سے فرار اختیار کر کے دنیا کے میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے جب کہ ملک کئی سال سے خانہ جنگی، غربت، بھوک اور نقل مکانی کے عذاب سے گذر رہا ہے۔ ان خواتین نے جنگ کے بجائے عالمی سطح پر امن کا پرچم لہرایا۔

گذشتہ سات سال سے جاری یمن جنگ کے دوران کئی خواتین ملک چھوڑ گئیں او انہوں نے دوسرے ملکوں میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ایسی خواتین کی تفصیلات اور ان کے کارناموں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ وہ خواتین ہیں جو دُنیا میں امن اور محبت کی سفیربن کر امن کا پیغام عام کر رہی ہیں۔

ان خواتین نے مختلف شعبوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے یمن کا پرچمن بُلند اور قوم کے افتخار میں اضافہ کیا ہے۔

مصائب اور جدو جہد کی عکاس تصویر

یہ ایسی تصویر کی کہانی ہے جسے عالمی ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔ یہ تصویر یمنی خاتون فاطمہ کی ہے جو جنگ کے ملبےسے نکل کر اپنے خاندان کی کفالت کا عزم لیےسمندری طوفانی موجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے چند مچھلیوں کا شکار کرکے ان کا پیٹ پالتی ہے۔

فاطمہ خاتون
فاطمہ خاتون

یہ تصویر یمن کی عام آبادی کی تکالیف، مشکلات اور مصائب کی عکاسی کے ساتھ بقا کے لیے جدو جہد کی علامت ہے۔ یہ تصویرایک ارجنٹائنی فوٹو گرفر بابلو ٹاسکو نے لی تھی جس کا کہنا تھا کہ یہ فاطمہ نامی ایک یمنی خاتون کی ہے۔ یہ تصویر ایمسٹرڈم میں ہونے والے بین الاقوامی صحافی مقابلے میں پہلی بہترین تصویر قرار پائی۔

سنہ 2019ء کو یمنی خاتون پروڈیوسر سارہ اسحاق کی فلم’لیس للکرامہ جدران‘ کو آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ آسکر کے نامزد کی جانے والی یہ پہلی یمنی فلم تھی۔

سارة اسحاق
سارة اسحاق

اس فلم کی کہانی کے بارے میں ’بی بی سی‘ سے بات کرتے ہوئے اس فلم میں ’جمعہ الکرامہ‘ کے ایام ہونے والے فسادات کا ذکر ہے جس میں مسلح عناصر کے ہاتھوں دسیوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعہ نے یمنی بحران میں ڈرامائی تبدیلی آئی۔

یمن اور ناروے میں ثقافتی پل

سنہ 2020ء کے دوران یمن کی محققہ اقبال دعقان نے پوری دنیا میں کم عمر کیمیا دان کا لقب حاصل کیا۔ اسے سنہ 2019ء میں ناروے کی’اگدار۔ کریسٹیانسڈ‘ یونیورسٹی کی جانب سے ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے پر ’ثقافتی پل کی بانی‘ کا ٹائٹل دیا گیا۔ اقبال دعقان نے یمن اور ناروے کے درمیان رواداری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا جس پر اسے یہ اعزاز ملا۔

اقبال دعقان
اقبال دعقان

ڈاکٹر اقبال یونیورسٹی آف اگدار ناروے میں بائیو کیمسٹری اور نیوٹریشنل سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ انہوں نے 2012 میں ملائیشیا سے بائیو کیمسٹری کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی۔ 2014 کے کیمسٹری کے شعبے میں ایلسیور فاؤنڈیشن ایوارڈ وصول کیا۔ اس ایوارڈ کے لیے انہوں نے تمام عرب دنیا کی نمائندگی کی۔

انسانی حقوق کے لیے نوبل انعام

جنیوا میں یمنی انسانی حقوق کی محافظ ھدیٰ الصراری نے سال 2020 کے لیے "مارٹن اینلز ایوارڈ" حاصل کیا جسے "انسانی حقوق کا نوبل انعام" کہا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ دنیا بھر کی دس نامور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ انہیں دیا جاتا ہے جو دُنیا میں انسانی حقوق کے محافظ کے طور پر اپنے عزم اور ہمت کے ذریعے ابھر کر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

هدى الصراري
هدى الصراري

ھدیٰ نے دُنیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتی ہوں جس میں پورے یمنی عوام کے حقوق کا احترام کیا جائے۔ ایک ایسی دنیا جس میں جنگ کے سائے میں اپنے بچے کے ضائع ہونے کی وجہ سے ماں کو تکلیف نہ ہو۔

حوثیوں کی بارودی سرنگوں کے باعث اعضا کھو دینے والوں کا درد

ایک یمنی اردنی سٹار نسرین الصباحی نے ایک فلم بنائی ہے جس میں ان لوگوں کے درد کو فلمبند کیا گیا ہے جو حوثی ملیشیا کی بارودی سرنگوں کی وجہ سے اپنے اعضاء کھو چکے ہیں۔

نسرين الصبحي
نسرين الصبحي

اس فلم میں اس نے تعزمیں بارودی سرنگوں اور گولوں کے متاثرین کے حالات بیان کیے۔ ان بارودی سرنگوں کوحوثی ملیشیا نے سکول کے صحنوں، اسپتالوں اور رہائشی مقامات پر نصب کر رکھا تھا۔ نسرین نے یہ ایوارڈ دلیلہ کے نام کیا جو اپنی شادی سے کچھ دن پہلے ایک کنویں سے پانی لانے کے لیے گئی تھی اور پانی کی کنویں کی دہلیز پر لگائی گئی بارودی سرنگ سے ٹکرا کر معذور ہوگئی اور وہ دلہن بننے کا خواب نہ دیکھ سکی۔ آخر کار وہ اپنجی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی۔

سفیرہ اطفال اور جبری شادیوں کےلیے خطرہ

یمنی کارکن ندا الاھدال پہلی یمنی خاتون ہیں جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں بچوں کی شادی کے خاتمے کے لیے ندا فاؤنڈیشن کے کردار کے لیے لندن میں گرلز پرائز جیتا ہے۔ اس نے کم عمری اور جبری شادی کے خطرے سے دوچار لڑکیوں کی ضروریات پر توجہ دی اور جبری شادیوں کی روک تھام کے لیے مہمات چلائیں۔

ندى الأهدل
ندى الأهدل

اس ایوارڈ کے دوران برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں 3 مارچ سے 7 مارچ تک لڑکیوں کے لیے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا تاکہ پروجیکٹس اور اداروں کا انتظام کیا جائے ، ڈونرز کو پروگرام مہیا کیے جائیں اور مستقبل کی خواتین رہ نماؤں کو مختلف شعبوں میں بغیر کسی استثنا کےتیار کیا جائے۔ ندا معصوم بچپن کی علامت بن گئی اور اسے "عرب بچوں کی سفیر" کا خطاب دیا گیا۔ اسے بین الاقوامی میڈیا پر بھی غیرمعمولی شہرت حاصل ہوئی۔

"بین الاقوامی عورت کی جرات کا ایوارڈ"

یمن میں جنگوں کے ملبے سے نکلنے والی یمنی خواتین اپنی شان اور مقام خود بناتی رہیں اور اس بار نوجوان یمنی فنکار شذیٰ الطوی نے اسکاٹ لینڈ میں جان برن مقابلہ جیتا اس نے اپنے فن کی اپنی سیریز سے چار پینٹنگز میں حصہ لیا جنہیں "خاندان" کے عنوان سے پیش کیا گیا۔

ياسمين القاضي

اسی تناظر میں ایک بہادر یمنی نوجوان خاتون جس نے جنگ میں اپنے 15 سالہ بھتیجے کو کھونے کے بعد بچوں کو بچانے کے لیے یمنی فوج کے ساتھ کام کیا۔ وہ عورتوں کے امور کے لیے مآب گورنر کی مشیربرائے خواتین کے طورپر کام کرتی ہیں۔ سنہ 2015ء کو اس نے اپنی بہن کے ساتھ مل کر مآرب گرلز فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔

یاسمین القاضی کو سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی موجودگی میں اعزاز دیا گیا۔

یاسمین القاضی پہلی یمنی خاتون ہیں جنہوں نے 4 مارچ 2020 کو " "International Woman of Courage ایوارڈ دیا گیا۔ یہ امریکی ایوارڈ ہر سال امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے دنیا بھر کی ایک خوتین کو ان کی جرات اور بہادری کی بنا پر دیا جاتا ہے۔

’بالم‘ ایوارڈ حاصل کرنے والی یمنی صحافی

پریس کے پیغام کے ذریعے اور ہر قسم کے ناانصافی ، تشدد اور دھمکیوں کا مقابلہ کرنے میں اس کے نرم کردار کی بہ دولت صحافیہ اور سماجی کارکن بشریٰ المقطری جرمنی کا ’بالم‘ ایوارڈ جیتا۔ یہ ایوارڈ اسے 2020 میں آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کے لیے خدمات کے صلے میں دیا گیا۔

بشرى المقطري
بشرى المقطري

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میگزین کے سرورق پر امن کا پیغام

ایک اور سافٹ پاور جو امن سازی میں کردار ادا کرنے میں کامیاب رہی ہے وہ ہے ومیض شاکر ہیں جن کے 15 سال کے تجربے ،ایک محقق اور قومی مشیر کے طورپر سال 2016 کے لیے عرب معاشرے کی 100 بااثر عرب خواتین میں شامل کیا گیا تھا۔ کویت کے مذاکرات میں سات یمنی خواتین کی فہرست پہلے یمنی خواتین وفد کے طور پربھی رمیض شاکر پیش پیش رہیں۔ومیض شاکر اپنا زیادہ تر وقت یمنی خواتین کی زندگیوں کو بچانے اور ان کی بقا کے لیے جدوجہد کی کہانیوں اور ان کی امنگوں کی دستاویزات میں صرف کرتی ہے۔ اسے نیو یارک میں یو این ویمن نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی میگزین کے سیزن کی کہانی کے طور پر بھی منتخب کیا تھا۔

وداد البدوي
مقبول خبریں اہم خبریں