.

کابل ایئرپوٹ کی تصویر والی بچی کے باپ نے واقعے کی کیا تفصیل بیان کی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان دارالحکومت پر طالبان کے کنٹرول کے بعد ایک افغان شیر خوار بچی کی تصویر دنیا بھر میں ہزاروں افراد کے ذہنوں میں اب تک موجود ہے جس کو کابل ہوائی اڈے کی دیوار پر کھڑے امریکی فوجی نے اس کے گھر والوں سے لیا تھا۔ تاہم اس کے بعد اس بچی اور اس کے گھر والوں کا انجام پراسرار رہا۔

بچی کے والد حمید نے (پورا نام معلوم نہیں ہو سکا) امریکی ٹی وی چینل CBS کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس کا گھرانہ اب امریکی ریاست ایری زونا میں مقیم ہے۔ حمید کے مطابق وہ حامد کرزئی ہوائی اڈے کے احاطے کے اندر موجود تھا جب اس کی اہلیہ اور دو ماہ کی نومولود بیٹی "لیا" کی حالت غیر ہونے لگی۔ اس موقع پر حمید نے ایک امریکی میرین سے مدد طلب کی جس نے اس 16 دن کی شیرخوار بچی کو فورا اپنے ہاتھ میں لے کر اٹھا لیا۔ حمید کے مطابق وہ پورے ماہِ اگست میں کابل کے ہوائی اڈے پر رہا۔ اس دوران وہ امریکی میرینز کی مدد کے لیے بطور مترجم کام کر رہا تھا۔

امریکی افواج کے ساتھ پانچ برس تک کام کرنے والے حمید نے واضح کیا وہ اپنی بیٹی "ليا" کا درمیانی نام "امریکی میرنیز" رکھنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ یہ ان فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک کوشش ہے جنہوںنے لیا کو بچایا تھا۔

حمید نے مزید بتایا کہ افغانستان پر طالبان کا کنٹرول مکمل ہونے کے بعد اسے یہ رپورٹیں ملیں کہ امریکیوں کے اتحادی اس کے دیگر دوست روپوش ہو گئے ہیں۔ اس پر حمید نے اپنی بیوی سے مطالبہ کیا کہ وہ کابل ہوائی اڈے فرار ہو جائے۔ ہوائی اڈے پر شدید افراتفری کے بیچ اسے اپنی بیوی اور بیٹی نظر آ گئی۔

حمید نے ہوائی اڈے کی خار دار تاروں والی دیوار پر کھڑے ایک امریکی میرین سے اپیل کی کہ وہ اس کی بچی کو ہوائی اڈے کے اندر پہنچانے میں مدد کرے۔ امریکی فوجی نے کہا کہ وہ صرف اتنا کر سکتا ہے کہ بچی کو تاروں کے اوپر سے اٹھا لے تاہم اس دوران وہ زخمی ہو سکتی ہے۔ اس پر حمید نے جواب دیا کہ "میں اس کے زخمی ہونے کو موت سے دوچار ہونے پر ترجیح دیتا ہوں"۔

اس طرح بچی کے دیوار کی دوسری جانب آنے پر حمید نے پہلی مرتبہ اپنی بیٹی کو گود میں لیا۔ پیدائش کے بعد سے حمید نے بیٹی کو نہیں دیکھا تھا۔ چند گھنٹوں کے بعد حمید کی اہلیہ بھی ہوائی اڈے کا مرکزی گیٹ عبور کر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔

حمید نے اس فوجی سے ملاقات اور معانقے کی امید کا اظہار کیا جس نے اس کی بچی کو بچایا۔