.

’’ایران سے جلدجوہری مذاکرات شروع ہوں گے‘‘:یورپی یونین

تنظیم کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کا شہزادہ فیصل بن فرحان سے یمن اورافغانستان کی صورت حال پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بورل نے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے اہم عالمی اور علاقائی امور پر بات چیت کی ہے اور انھیں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات سے آگاہ کیا ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران سے ’’جلد‘‘ مذاکرات بحال ہوجائیں گے۔

جوسیپ بورل نے سعودی وزیرخارجہ کے ساتھ الریاض میں ملاقات کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس میں بتایا کہ انھوں نے افغانستان اور یمن کی صورت حال کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یورپی یونین خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کرنے کو تیار ہے۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بتایا کہ انھوں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کے ساتھ متعدد دوطرفہ اور علاقائی امور پر بات چیت کی ہے۔انھوں نے ملاقات میں مملکت کے ویژن 2030 کے تحت دوطرفہ تعاون کے فروغ کے مواقع کا جائزہ لیا ہے۔

شہزادہ فیصل نے جوسیپ بورل کویمن میں حوثی ملیشیا کی جنگی کارروائیوں کی ’’سنگینی‘‘سے بھی آگاہ کیا اورکہا کہ سعودی عرب یمن میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

انھوں نے اس بات پرزوردیا کہ ایران کی حمایت یافتہ ’’حوثی ملیشیا یمن میں فوجی آپشنز پر مُصرہے۔‘‘ انھوں نے وضاحت کی کہ ’’یمن میں جنگ بندی کے اقدامات کے باوجود حوثیوں نے مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔‘‘

ایران کے جوہری تنازع کے حوالے سے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ الریاض کو تہران کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش لاحق ہے اور اس کا کردار اس کے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت کے اعلانات کے منافی ہے۔