.

’’مجھ پر پابندی اور طالبان ٹوئٹر پر موجیں ماریں‘‘: ٹوئٹر کے کھلے تضاد ٹرمپ پر پھٹ پڑے

ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال کروایا جائے، ٹرمپ کی عدالت میں درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک وفاقی عدالت میں یہ درخواست دی ہے کہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال کروایا جائے۔

یاد رہے کہ سابق صدر کا کروڑوں فالورز والا ٹوئٹر اکاؤنٹ رواں برس جنوری میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے تشدد پر ورغلانے کے الزام کے تحت بند کر دیا تھا۔

اپنی درخواست میں سابق صدر نے یہ استدعا کی ہے کہ ٹوئٹر کو مبینہ طور پر امریکی کانگریس کے اراکین نے ان کا اکاؤنٹ بند کرنے پر مجبور کیا تھا۔

رواں برس چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر ان کے حامیوں کی جانب سے حملے کے بعد ٹوئٹر سمیت دوسری سماجی رابطے کی ویب سائٹس نے ان کے اکاؤنٹس بند کر دیے تھے۔

یہ حملہ اُس وقت ہوا تھا جب کانگریس کے اراکین نو منتخب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لیے جمع تھے اور یہ حملہ ٹرمپ کی جانب سے ایک تقریر کے بعد کیا گیا تھا جب انہوں نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے اپنے الزام کو دہرایا تھا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ٹرمپ کے وکیل نے اپنی درخواست میں لکھا کہ ٹوئٹر ملک میں ہونے والے سیاسی مکالمے پر ایک طرح کی طاقت رکھتا ہے جسے ماپنا ناممکن اور جمہوری مباحثے کے لیے بے حد خطرناک ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق ٹوئٹر نے اس رپورٹ پر ردِ عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ٹرمپ کے اکاؤنٹ کو ہٹانے کے موقع پر کمپنی نے کہا تھا کہ ان کی ٹوئٹس نے تشدد کو شہ دینے کا کام دیا تھا جو پلیٹ فارم کی پالیسی کے خلاف ہے۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُن کا اکاؤنٹ اس لیے بھی بند کیا گیا ہے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے حامیوں کو اُکسانے کے لیے یہ پلیٹ فارم استعمال نہ کر سکیں۔

سابق صدر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو ہٹانے سے پہلے ان کے آٹھ کروڑ اسی لاکھ فالورز تھے۔