.

فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر پیش رفت، حماس کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم تحریک حماس کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل اور غزہ کے دھڑوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حماس کے رہ نما اسرائیل کے ساتھ تبادلے کا معاہدہ مکمل کرنے کے لیے قاہرہ پہنچ گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور غزہ میں فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ بندی قائم رکھنےپر بھی اتفاق کیا گیا۔

اس کے برعکس حماس کے دیگر ذرائع نے ان رپورٹس کی صداقت کی تردید کی اور کہا کہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے معاہدے کی تکمیل ابھی نہیں ہوئی ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اعلان کیا تھا کہ تحریک کا وفد اسماعیل ہنیہ کی سربراہی میں مصرکے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور فلسطینیوں کے مفادات کے لیے ان کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے قاہرہ پہنچا۔

غزہ کی تعمیر نو

اتوار کو ایک بیان میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں انسانی صورت حال کو بہتر بنانے ، غزہ کی پٹی پراسرائیلی محاصرے کو کم کرنے اور تعمیر نو سے متعلق امور پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے غزہ کے محاصرے کو کم کرنے کے اقدامات میں مصری کردار کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے معاملے پرہمیشہ بات کی جاتی ہے اور اس سلسلے میں آنے والے کئی وفود کی طرف سے ہمیشہ خیالات پیش کیے جاتے ہیں اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے سے متعلق کیسز کو زیربحث لایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے مصر کا کردار اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قبل ازیں حماس کے ترجمان نے کہا تھاکہ جماعت کا ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد بات چیت کے لیے اتوار کو قاہرہ پہنچے گا۔

فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی حکمران ’حماس‘ کا ایک وفد اتوار کو غزہ سے قاہرہ روانہ ہو گا تاکہ مصری حکام سے بات چیت کی جا سکے۔

ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا کہ حماس کا وفد غزہ کی پٹی کی صورت حال، تعمیر نو ، قیدیوں کے تبادلے اورجنگ بندی پربات چیت کرے گا۔

حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے بھی اعلان کیا کہ تحریک کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اس وفد کی سربراہی کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ مصری حکام نے اعلان کیا تھا کہ قاہرہ گذشتہ جون میں فلسطینی دھڑوں کے اجلاسوں کی میزبانی کرے گا تاکہ حل طلب معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے اور ان پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ مصر فلسطینیوں میں مفاہمت، اختلافات ختم کرنے، ، فلسطینی صفوں کو متحد کرنے،غزہ کی تعمیر نو کے طریقہ کارپر اتفاق اور فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کےتبادلے کی کوششیں کررہا ہے اہم چند ماہ قبل مصر نے فلسطینی دھڑوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی تھی۔

مشاورت کے لیے مزید وقت

ایک ذمہ دار فلسطینی ذریعہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس وقت تصدیق کی کہ تاخیر کی وجہ دھڑوں کو مشاورت کے لیے زیادہ وقت دینا اور کلیدی امور سے متعلق اختلافات ختم کرکے افہام و تفہیم تک پہنچنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک گروہ ہے جو یقین رکھتا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو ، قیدیوں کا معاملہ جلد شروع ہو اورغزہ کا محاصرہ ختم کیا جاسکے۔ اس کے بعد ، فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی حیثیت اور انتخابات پر بتدریج بات چیت ممکن ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ دھڑے ایک جامع بات چیت چاہتے ہیں جو PLO کو کی دوبارہ حیثیت بحال کرے جو تمام فلسطینیوں کی نمائندگی کر سکے۔