.

میراث ہتھیانے کے لیے بھائی کی بہن کے ساتھ غنڈہ گردی، بلیک میل کرنے کی مذموم کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں ایک نوجوان لڑکی کواس کے بھائی کے ہاتھوں اپنے دوست کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر اغوا کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کا پس منظر بہن بھائی کے درمیان خاندانی وراثت کا تنازع بتایا جا ہے۔

مصرمیں سوشل میڈیا پرایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک لڑکی کو گاڑی میں اغوا کرکے لے جانے کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے۔ الدقھلیہ گورنری کے شہرالمنصورہ کے مقامی باشندوں نے گاڑی میں چیخ پکار کرنے والی لڑکی کو اس کے اغوا کار بھائی اور ایک دوست کےچنگل سے آزاد کرالیا۔

تفصیلات کے مطابق اغوا ہونے والی لڑکی اسرا السعید نے بتایا کہ اسے اغوا کرنے والا اس کا اپنا بھائی ہے جس نے یہ واردات اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کرکی تاکہ وہ میری نازیبا حالت میں ویڈیو بنا کرمُجھے اپنی میراث کے حق سے دستر بردار کرنے کے لیے بلیک میل کرسکے۔

بلیک میل کرنے کے لیے بہن کو جھانسہ

اسراء نے وضاحت کی کہ اس کا چھوٹا بھائی اس کے ساتھ رئیل اسٹیٹ رجسٹری میں پاور آف اٹارنی لکھنے کے لیے جانے پر راضی ہوا۔ بھائی نے اسے بتایا کہ وہ اپنے دوست کو ساتھ لے کر جانا چاہتا ہے جو ہمارے اس کام میں ہماری مدد کرے گا۔ اسرا کہتی ہیں کہ وہ اس پر راضی ہوگئیں مگر یہ ایک جھانسہ تھا اور میرا ہی بھائی مجھے اپنے دوست کے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر بلیک میل کرنا چاہتا تھا۔

اس نے بتایا کہ بھائی نے ایک جگہ کار روک دی اورمجھے قضائے حاجت کا کہہ کر گاڑی سے اترگیا۔ پھر اس نے ڈرائیور کو آواز دی۔ اس کے بعد وہ دونوں آئے اور مجھےمار پیٹ شروع کردی۔ انہوں نے مجھے گاڑی میں باندھ دیا اور کار کے دروازے بند کردیے۔ میرے منہ پرپٹی باندھ دی۔ بھائی نے مجھے کہا کہ مجھے اپنے میراث کے حق سے دست برداری کے فارم پر دستخط کرنا ہوں گے۔ میں نے چلانے اور گاڑی سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔

اسرا نے بتایا کہ تھوڑا آگے چلنے کے بعد انہوں نے گاڑی پھر روکی اور مجھے رسیدوں پر دستخط کی دھمکی دی۔ انہوں نے میری آبرو ریزی کے لیے میرے کپڑے تک اتارنے کی کوشش کی تاکہ وہ میری ویڈیو بنا کر مجھے بلیک میل کرسکیں۔ اس دوران وہاں پر لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے میں نے ان سے فرار کی کوشش کی۔ میں گاڑی سےنکل کر فرار ہوگئی۔ کچھ راہ گیروں نے مجھے پولیس سے رابطے میں مدد دی۔

ایک سوال کے جواب میں اسرا سعید نے بتایا کہ اس کا چھوٹا بھائی اکثر اس پر تشدد کرتا۔ ان کے والد کی وفات کے بعد انہوں نے وراث کی تقسیم کا فیصلہ تک کیا جب مجھے پتا چلا کہ وہ والد سے ملنے والی میراث کی زمین کو فروخت کرنا چاہتا ہے۔ ہماری مداخلت کے باوجود وہ زمین فروخت کرنے پر مصررہا۔ پراسیکیوٹر نے اس واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔