.

ستمبر میں سعودی عرب کی غیرتیل نئی کاروباری نمو سات سال کی بلند سطح پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے غیرتیل نجی شعبے کی شرح نمو میں ستمبر میں اضافہ ہوا ہے۔ایک کاروباری سروے سے پتا چلا ہے کہ معمول کی سرگرمی اور سفر پر کووڈ-19 کی پابندیوں میں نرمی سے صارفین کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب کا موسمی طورپر ایڈجسٹ ہونے والا آئی ایچ ایس مارکیٹ پرچیزنگ مینجرزانڈیکس (پی ایم آئی) ستمبر میں بڑھ کر 58.6 ہو گیا ہے۔یہ اگست میں 54.1 تھا اور یہ 50 کے نشان اور حد سے بہت اوپر ہے جو ترقی کو سکڑاؤ سے الگ کرتا ہے۔

اس طرح مقررہ حد سے 4۰5 پوائنٹس کے اضافے نے اگست 2015 کے بعد غیرتیل کاروباری حالات میں سب سے مضبوط بہتری کا اشارہ دیا ہے۔

مئی کے بعد فرموں کی پیداوار میں سب سے زیادہ شرح سے اضافہ ہوا ہےاور غیر تیل کمپنیوں کو موصول ہونے والے نئے آرڈرز میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔متعلقہ ذیلی انڈیکس (اشاریے)میں ماہانہ کی بنیاد پرقریباً 10 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایچ ایس مارکیٹ کے ماہراقتصادیات ڈیوڈ اوون کا کہنا ہے کہ مسلسل دومرتبہ گراوٹ کے بعد تازہ مطالعہ سے پتا چلا ہے کہ معاشی بحالی میں قوت برداشت ہے اور وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ اقدامات میں نرمی سے صارفین کی طلب کے رجحان میں اضافہ ہوگا۔

سعودی عرب عرب دنیاکی سب سے بڑی معیشت اور دنیا بھر میں سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ملک ہے۔ اس کی مجموعی قومی پیداوار میں رواں سال 2.6 فی صد اور 2022 میں 7.5 فی صد نمو کی توقع ہے جو گذشتہ سال کرونا وائرس کے بحران اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کی وجہ سے 4.1 فی صد سکڑاؤ کے بعد ہوئی تھی۔

نجی شعبے کی ترقی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ ویژن 2030 کا بنیادی پہلو ہے اور اب کہ مملکت میں نجی شعبے کی روزافزوں ترقی اسی کثیرالجہت اصلاحاتی منصوبے کی مرہون منت ہے۔ ان کے اس ویژن کے تحت سعودی معیشت کو یکسر تبدیل کرنے اور اسے تیل کی دولت پرانحصار کم کرنے لیے مختلف شعبوں میں اقدامات کیے جارہے ہیں۔

لیکن نجی فرموں کے نئے آرڈرز میں اضافے کے باوجود ستمبر میں نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی شرح میں کمی رہی ہے اور سروے میں شامل فرموں نے اس ضمن میں کافی گنجائش موجود ہونے کی اطلاع دی۔اوون نے کہا کہ طلب کے دباؤ اور بڑھتی ہوئی کاروباری امید پرستی کے پیش نظر سال کی آخری سہ ماہی میں مزید فرموں کو عملہ کی خدمات حاصل کرنا پڑیں گے۔