.

مصر کی سرپرستی ، حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی برقرار رکھنے پر آمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری انٹیلی جنس کے صدر عباس کامل نے منگل کے روز فلسطینی تنظیم حماس کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد فریقین نے باور کرایا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کو مستحکم کرنے پر متفق ہیں۔

ملاقات میں اسماعیل ہنیہ کے زیر قیادت حماس کے وفد نے مصری انٹیلی جنس کے سربراہ کے ساتھ مسئلہ فلسطین اور خطے کی صورت حال پر بات چیت کی۔ علاوہ ازیں اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حماس کے وفد نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے مصر کے کردار کو باور کرایا۔

ادھر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ حماس کے نئے سیاسی بیورو کا پہلا اجلاس قاہرہ میں ہو گا۔ اجلاس میں تینوں ریجنز شامل ہوں گے۔ یہ ریجنز غزہ کی پٹی ، مغربی کنارہ اور بیرونِ فلسطین ہے۔

یاد رہے کہ مصر نے رواں سال جون میں فسلطینی گروپوں کی ملاقاتوں کی میزبانی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پھر اسے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس التوا کا مقصد فلسطینی گروپوں کو مزید وقت دینا تھا تا کہ وہ مشاورت کر سکیں اور بنیادی معاملات سے متعلق اختلافات کے حوالے سے مفاہمت تک پہنچ سکیں۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں فلسطینی گروپوں اور اسرائیل کے بیچ کئی روز کی شدید جارحیت کے بعد مصر فریقین کے بیچ امن کی بحالی کے واسطے بھرپور طور سے داخل ہوا تھا۔

مئی کی 10 تاریخ کو فریقین کے بیچ بھڑکنے والا یہ شرارہ 11 روز بعد جمعہ 22 مئی کی صبح فائر بندی کے اعلان پر جا کر ٹھنڈا پڑا۔ اس دوران میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر میزائل برسائے جب کہ حماس اور اسلامی جہاد تنظیموں کی جانب سے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش کی گئی۔

یاد رہے کہ مذکورہ جارحیت 2008ء کے بعد سے اسرائیلی فوجی اور غزہ میں فلسطینی گروپوں کے بیچ چوتھی لڑائی تھی۔ غزہ کی پٹی میں طبی ذرائع کے مطابق 11 روز میں 248 فلسطینی جاں بحق ہو ئے جب کہ اسرائیل میں 13 افراد مارے گئے۔