.

لیبیا سے 90 جنگجو ترکی کی جانب روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز قبل لیبیا سے اجرتی قاتلوں کی پہلی کھیپ کی واپسی کے بعد ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ شامی نژاد 90 جنگجو لیبیا سے ترکی کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لیبیا میں موجود ترکی کے تعینات کردہ اجرتی جنگجو ایک لیبی فضائی کمپنی کی پرواز سے معیتیقہ ہوائی اڈے سے ترکی روانہ ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کو ہوائی اڈے پردوسرے مسافروں سے الگ تھلگ کردیا گیا تھا۔ انہیں خصوصی ویٹنگ پلیٹ فارم پر رکھا گیا۔ انہیں طرابلس کے یرموک کیمپ سے دو بسوں کے ذریعے ہوائی اڈے تک منتقل کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو شامی نژاد 300 جنگجو لیبیا سےترکی روانہ ہوگئے تھے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ سیرین آبزر ویٹری کے مطابق لیبیا سے آنےوالے جنگجوؤں کو شام منتقل کردیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ کے ملک میں موجود غیرملکی عسکریت پسندوں کی واپسی کے حوالے سے 5+5 کمیٹی کے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔

لیبیا کی وزیر خارجہ نجلا المنقوش نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک میں موجود غیرملکی جنگجوؤں کو واپس کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا میں ترکی کی جانب سے تعینات کیے گئے شامی جنگجوؤں کی تعداد 7 ہزار سے زاید ہے۔

سنہ 2011ء میں کرنل معمر قذافی کے قتل کے بعد لیبیا خانہ جنگی کا شکار ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کے ساتھ ملک کئی سیاسی قوتوں میں بھی بٹ کر رہ گیا تھا۔ مشرقی اور مغربی لیبیا کو دو متحارب دھڑے کنٹرول کررہے تھے۔ ان میں سے ایک دھڑے کو ترکی کی طرف سے بھی مدد فراہم کی گئی تھی۔ ترکی نے اس مقصد کے لیے شام سے ہزاروں کی تعداد میں جنگجو لیبیا بھیج رکھے ہیں۔ لیبیا میں جنگ بندی اور مخلوط حکومت کے قیام کے بعد غیرملکی جنگجوؤں کی واپسی شروع ہوگئی ہے۔