.

متحدہ عرب امارات کا 2050ء تک کاربن کا اخراج ’خالص صفر‘کرنےکا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی ایکسپو 2020ء میں ایک حکومتی اعلان کے مطابق متحدہ عرب امارات خلیج کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے 2050ء تک کاربن کے اخراج کو صفر کرنے کا عہد کیا ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے وام کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں حکومت نے کہا ہےکہ ’’کاربن کے اخراج کا صفرہدف (نیٹ زیرو) حاصل کرنے کے لیے پیش کردہ بڑے معاشی مواقع امارات کو دنیا میں ایک متحرک اور فعال معیشت کے طور پرترقی دینے کے ویژن کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اورحاکم دبئی شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اعلان کیا ہے کہ ملک قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں 600 ارب درہم (163.4 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے خطے کے اندرماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے اورروزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے اس اہم معاشی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں کیونکہ ہم اپنی معیشت اور قوم کو خالص صفر کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 15 سال قبل صاف توانائی کے منصوبوں کی مالی معاونت شروع کی تھی اور اب تک اس شعبے میں 40 ارب ڈالرسے زیادہ کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔

یواے ای تیل اورگیس پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔ اوپیک کے مطابق ملک کی مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی) کا تیس فی صد براہ راست تیل اور گیس کی پیداوار پر مبنی ہے۔

اماراتی حکومت جلد ہی کسی بھی وقت فوسل ایندھن کو خیرباد کہنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ریاست کی ملکیتی توانائی کی بڑی کمپنی ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی) ایک دہائی کے اندرتیل کی پیداواری صلاحیت کو چالیس لاکھ بیرل یومیہ سے بڑھا کرپچاس لاکھ بیرل یومیہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

تیل کی پیداوار میں یہ اضافہ اقوام متحدہ کے قواعد وضوابط کی وضاحت کے مطابق ’نیٹ زیرو ہدف‘‘ سے مطابقت رکھتاہے۔اس کے مطابق کوئی بھی ملک اپنی سرحدوں کے اندرایندھن کی پیداوار اور گرین ہاؤس گیسوں کےاخراج کا جواب دہ ہے۔متحدہ عرب امارات صرف برآمد شدہ ایندھن کے پیداواری عمل کے دوران میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے اقدامات کے نفاذ کا ذمہ دار ہوگا۔