.

ایران کے پہلے صدرابوالحسن بنی صدر88 سال کی عمر میں پیرس میں چل بسے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں 1979ء میں برپا شدہ انقلاب کے بعد ملک کے پہلے منتخب صدرابوالحسن بنی صدر ہفتہ کے روز فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ایک اسپتال میں وفات پاگئے ہیں۔ان کی عمر 88 سال تھی اور وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ان کی اہلیہ اوربچّوں نے بنی صدرکی سرکاری ویب سائٹ پر ان کی وفات کی اطلاع دی ہے۔ان کے اہل خانہ نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’’بنی صدر نےمذہب کے نام پر نئے ظلم اور جبر کے سامنے آزادی کا دفاع کیا تھا۔‘‘

بنی صدر کو انقلاب کے ایک سال بعد جنوری 1980 میں صدر منتخب کیا گیا تھا لیکن 1981ء میں ایرانی پارلیمان نے انھیں محض اس بنا پر برطرف کر دیا تھا کہ نے انھوں تب سپریم لیڈر مرحوم آیت اللہ روح اللہ خمینی کی مخالفت کی تھی۔اس کے بعد وہ فرانس چلے گئے تھے اور وہاں جلاوطنی کی زندگی گزاررہے تھے۔

بنی صدر 22مارچ 1933 کوایران کے مغرب میں واقع شہر حمدان کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ لبرل اسلام کے حامی تھے اور ایک عملی مسلمان تھے۔انھوں نے 17 سال کی عمر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا اورقوم پرست رہنما محمد موسیٰ دیغ کی تحریک میں ایک کارکن کی حیثیت سے شامل ہوگئے تھے۔

انھوں نے دینیات، معاشیات اور سماجیات کے مضامین میں تعلیم حاصل کی تھی اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد شاہِ ایران رضاپہلوی کی حکومت کے سرکردہ مخالف بن گئے تھے۔شاہ کی مخالفت کی بنا پر پولیس ان کا پیچھا کررہی تھی اور وہ 1963 میں ایران چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔اس کے بعد وہ پیرس میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے لگے تھے۔

1970ء کے عشرے میں انھوں نےایرانی حزب اختلاف کے اتحاد کی وکالت کی اور شاہِ ایران کے مخالف جلاوطن سیاسی کارکنان اور لیڈروں پر زوردیا کہ وہ آیت اللہ خمینی کے زیرقیادت متحد ہوجائیں اور ایک مشترکہ تحریک چلائیں۔خمینی اس وقت خود عراق میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

اکتوبر1978 میں روح اللہ خمینی فرانس چلے گئے تھے اوروہاں بنی صدر ان کے قریبی دوستوں اور مشیروں میں سے ایک بن گئے تھے۔وہ یکم فروری 1979 کواسی طیارے میں سوار تھے جس میں خمینی فرانس سے ایران لوٹے تھے۔

انقلاب کے بعد ابتدا میں انھوں نے ایران کے وزیربرائے معاشیات اور خارجہ امور کے طور پر خدمات انجام دیں۔انھیں تب بعض اوقات ’’خمینی کا روحانی بیٹا‘‘قراردیا جاتا تھا۔اسی قربت کی بنا پر انھیں 26 جنوری 1980 کو اسلامی جمہوریہ ایران کا صدر منتخب کیا گیا۔

مگر اپنے مینڈیٹ کےآغاز سے ہی بنی صدر کو بے پایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان میں امریکی سفارت خانے کے یرغمالیوں کا معاملہ، ایران عراق جنگ، ملک کو درپیش معاشی بحران اور سب سے بڑھ کربنیاد پرست علماء کی مخالفت بڑے مسائل تھے۔

فروری 1980ء سے جون1981ء تک ایران کی مسلح افواج کے کمانڈرکی حیثیت سے انھوں نے فوج کو دوبارہ منظم کیا اور اپنا زیادہ تروقت عراق کے ساتھ جنگ کے محاذ پر گزارا تھا۔وہ جمہوری طرزِحکمرانی کے حامی تھے لیکن انھیں سخت گیروں کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ان کےشیعہ مذہبی رہ نماؤں کے ساتھ ایک سال سے زیادہ کے تنازعات کے بعد ملک میں جمہوریت سازی کا عمل رک گیا تھا۔

ان حالات میں 21جون 1981 کو خمینی کی منظوری سے بنی صدر کو پارلیمان نے’’سیاسی نااہلی‘‘ کی بنا پربرطرف کردیا۔اس کے بعد وہ 29 جولائی 1981 کوایران سے اپنے ایک حامی کے ہاتھوں اغوا کیے گئے فوجی طیارے میں چھپ کر بیرون ملک چلے ہوگئے تھے۔انھوں نے فرانس پہنچتے ہی سیاسی پناہ کی درخواست دائرکی۔اس پرمیزبان ملک نے انھیں سیاسی پناہ دے دی تھی۔وہ مئی 1984 سے پیرس کے نواحی علاقے ورسیلی میں رہ رہے تھے۔

اگست1981ءمیں انھوں نے ایک اورجلاوطن رہ نما مجاہدین خلق تنظیم کے لیڈر مسعود رجوی کے ساتھ مل کر ایران کی قومی مزاحمتی کونسل (این سی آر آئی) کی بنیاد رکھی لیکن انھوں نے تین سال سے بھی کم عرصے میں اس تنظیم کو خیرباد کَہ دیا تھا۔

انقلاب سے غداری

بنی صدرنے 2019ء میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے 1979ءمیں اقتدار میں آنے کے بعدانقلاب کے اصولوں سے غداری کی تھی اور اس کی وجہ سے ان کے ساتھ تہران واپس آنے والوں میں سے بعض لوگوں بہت تلخ تجربے سے گزرنا پڑا تھا۔

بنی صدر نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کس طرح 40 سال پہلے پیرس میں انھیں یقین ہو گیا تھا کہ مذہبی رہنما کا اسلامی انقلاب ایران میں شاہ کی حکومت کے بعد جمہوریت اور انسانی حقوق کی راہ ہموار کرے گا۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا:’’ہمیں یقین تھا کہ کوئی مذہبی رہنما ایک عزم اورعہد کا اظہارکررہا ہے اور ان تمام اصولوں پر پہلی مرتبہ ہمارے ملک کی تاریخ میں عمل درآمد کیا جائے گا۔‘‘