.

پناہ گزینوں کی روک تھام کے لئے دیوار کی تعمیر، یورپی یونین کے 12 ممالک کا بلاک بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے ارکان میں سے 12 ممالک نے یورپی کمیشن کو بھیجے گئے ایک خط میں زور دیا ہے کہ وہ رکن ممالک کے اس بلاک کو مالی رقوم کی ادائیگی کرے تا کہ وہ غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے واسطے دیوار تعمیر کر سکیں۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق یورپی کمیشن نے اتحاد کی حدود کے اندر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈنگ سے انکار کر دیا ہے۔

بلومبرگ نیوز ایجنسی نے جمعے کے روز بتایا کہ آسٹریا، یونان، ہنگری اور پولینڈ کے وزراء کا کہنا ہے کہ "دیوار" کی صورت میں مؤثر سرحدی اقدام نہ صرف بلاک کے ممالک بلکہ یورپی یونین کے مفاد میں کام آئے گا۔

خط پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل لٹوینیا نے پہلے ہی بیلا روس کے ساتھ اپنی سرحد پر 508 کلو میٹر طویل دیوار بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کا مقصد مہاجرین کی غیر معمولی لہر کو روکنا ہے جو یورپی یونین کے مشرق کی جانب اکٹھے ہو رہے ہیں۔

اسی طرح پڑوسی ملک لیٹویا نے بھی بیلا روس کے ساتھ اپنی سرحد پر خار دار تاروں سے 134 کلو میٹر طویل باڑ بنانے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔

یورپی یونین کے 12 ممالک کے وزراء کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ اس سلسلے میں زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس وقت اُن اقدامات کے حوالے سے ایسے واضح قواعد موجود نہیں جو رکن ممالک غیر قانونی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کے جمع ہونے کی صورت میں کر سکیں۔