.
افغانستان وطالبان

کثیرتعداد میں افغانوں کاایران سرحد پر پڑاؤ، لیکن بہت کم اُس پار جانے میں ’’کامیاب‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں قریباً دوماہ قبل طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ایران کے ساتھ واقع سرحدی علاقے کا رُخ کرنے والے افغانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن ان میں سے بہت کم لوگ سرحد پار کرکے ایرانی علاقے میں داخل ہوسکے ہیں۔

15 اگست کوطالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہرماہ جنوب مغربی صوبہ نیمروزمیں واقع زرنج سرحدی اسٹیشن کے ذریعے ایک سے دو ہزار کے لگ بھگ افراد ایران جاتے تھے۔

لیکن صوبہ نیمروز کے سرحدی کمانڈرمحمد ہاشم حنظلہ نے اسی ہفتے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کے کنٹرول کے بعد سےسرحد پار جانے کی کوشش کرنے والے افراد کی تعداد روزانہ تین سے چار ہزار تک ہوچکی ہے۔

افغانوں میں بہتر معاش کی تلاش میں بیرون ملک جانے کے رجحان میں اضافہ جنگ زدہ افغانستان میں تباہ کن معاشی اورانسانی بحرانوں کا بھی عکاس ہے۔اقوام متحدہ نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ ملک کی ایک تہائی آبادی کو قحط کے خطرے کا سامنا ہے۔

حنظلہ نے بتایا کہ سرحد پار جانے والے لوگوں میں سے بہت کم کے پاس ایران میں داخلے کے لیے مطلوبہ کاغذات ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ تاجروں اور اقامتی ویزے کے حامل افراد کے ساتھ ساتھ طبی علاج کاویزے رکھنے والے افراد کو ایرانی فورسز کی جانب سے روکا نہیں جاتا ہے اور قریباً 500 سے 600 افراد کو روزانہ ایرانی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔

مگرجن لوگوں کے پاس سفری کاغذات نہیں ہوتے،ان کے لیے سرحدعبور کرنے کا تجربہ تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔انھیں ایرانی سکیورٹی فورسز کے تشدد کا بھی نشانہ بننا پڑتا ہے۔ان ہی لوگوں میں سے ایک حیات اللہ نامی افغان کا ایرانی سکیورٹی فورسز نے تشدد کرکے ہاتھ توڑدیا تھا۔اس نے اپنا شدید زخمی ہاتھ دکھایا۔اس پر پٹی بندھی تھی لیکن اس کا زخم اتنا گہرا تھا کہ پٹی میں سے بھی خون رس رہا تھا۔

تولیے جیسی پگڑی پہنے سرمئی رنگ کی ڈاڑھی والے حیات اللہ نے بتایا کہ ’’ایرانی فوجیوں نے ہم سے پیسے بھی لے لیے مگر سرحد پار نہیں جانے دیا۔انھوں نے ہمیں اتنا مارا کہ ہمارے ہاتھ میں گہرازخم ہوگیا ہے۔‘‘

ایک اور افغان محمد نسیم نے بتایا کہ انھوں نے تین مرتبہ سرحدی دیوار پھاندنے کی کوشش کی لیکن تینوں مرتبہ ہی انھیں ناکامی سے دوچارہونا پڑا۔ان کے بہ قول دو رات قبل ایران کے سرحدی محافظوں نے فائرنگ کی تھی اور سرحدعبور کرکے ایرانی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ان میں ان کا ایک دوست بھی شامل تھا۔

اس کے باوجود نسیم نے ہمت نہیں ہاری اور تیسری رات بھی سرحدی دیوار عبور کرکے ایرانی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ایرانی محافظوں نے اس مرتبہ اس کو پکڑا کر تشدد کا نشانہ بنایا اور اس سے پوچھا کہ وہ دستاویزات کے بغیرسرحد پار کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے۔

اس پر اس افغان نے ایرانی محافظوں کو یہ جواب دیا تھا:’’اگر آپ کو بھی ہماری قوم ایسی غُربت، بھوک اور بدحالی کاسامنا ہوتا تو پھر آپ بھی سرحد عبور کرکے دوسری طرف جانے کی کوشش کرتے۔‘‘