.

حماس کے قاہرہ میں اجلاس اختتام پذیر،قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں کئی روز سے جاری اجلاس کل ہفتے کو ختم ہوگئے۔ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی قیادت میں ہونے والے اجلاسوں میں تنظیم کے سیاسی شعبے کےارکان، اندرون اور بیرون ملک قیادت نے شرکت کی۔

مصر کی میزبانی میں ہونے والے ان اجلاسوں میں مقبوضہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ، اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کا معاملہ، اسرائیل کی طرف سے غزہ کے علاقے کی جاری ناکہ بندی اور فلسطین کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔

حماس نے خطے میں مصر کے قائدانہ کردار اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے قاہرہ کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔

قاہرہ میں ہونے والے حماس کے کئی روز جاری رہنے والے اجلاسوں میں خطے کی بدلتی صورت حال، عالمی مسائل اور ان کے قضیہ فلسطین پر مرتب ہونے والے اثرات کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ممکنہ ڈیل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کےتبادلے کی ڈیل کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ اس معاملے میں حماس مصری انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسیران کے معاملے کو غیرمعمولی اہمیت دیتی ہے۔ خاص طورپراسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والےقیدیوں کی صورت حال پرگہری نظر ہے۔ اس معاملے میں مصری حکام سے بھی بات کی گئی ہے۔

قاہرہ اجلاسوں میں نے فلسطینی قیادت کی نئی صف بندی، اتفاق رائے سے نئی قیادت کی جمہوری بنیادوں پر تشکیل اور تنظیم آزادی فلسطین کے فورم پر پوری قوم کی نمائندہ قیادت کو شامل کرنے پر زور دیا۔ حماس کا کہنا تھا کہ تنظیم آزادی فلسطین کسی مخصوص گروپ کے بجائے تمام نمائندہ قوتوں کوحصہ ملنا چاہیے۔

اس دوران حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی قیادت میں جماعت کے اعلیٰ اختیاراتی وفد نے مصری انٹیلی جنس چیف سے بھی ملاقات کی۔ حماس نے اسماعیل ھنیہ اور مصری انٹیلی جنس چیف میجر جنرل عباس کامل کے درمیان ہونے والی ملاقات کو مثبت قرار دیا۔