.

سعودی وزارتِ خارجہ کی عدن کے گورنر پرقاتلانہ بم حملے کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے یمن کے جنوبی شہر عدن میں سرکاری حکام پرخودکش بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔دہشت گردی کے اس حملے میں عدن کے گورنر اور وزیرزراعت کو نشانہ بنایاگیا تھا لیکن وہ دونوں تباہ کن دھماکے میں محفوظ رہے ہیں۔

یمنی وزیراطلاعات معمرالاریانی نے بھی عدن کے گورنر احمد لملس اوروزیر زراعت سالم السقطری کے قافلے پر قاتلانہ بم حملے کی مذمت کی ہے۔انھوں نے اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’حوثیوں نے مآرب اور شبوہ صوبوں میں اپنی تشدد آمیزکارروائیاں تیز کردی ہیں۔ان کے ساتھ آج کے اس دھماکے کا مقصد آزاد کرائے گئے علاقوں میں صورت حال کو معمول پر لانے کی یمنی حکومت کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔‘‘

یمن کے جنوبی شہر اور عارضی دارالحکومت عدن کے گورنر کے موٹرقافلے پراتوار کے روز کار بم حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق عدن کے علاقے تواحی میں ہونے والے اس بم حملے میں گورنر بال بال بچ گئے ہیں۔

گورنر احمد لملس نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں لیکن دھماکے سے ان کے محافظ متاثر ہوئے ہیں۔برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرزنے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے جائے وقوعہ پر دو جلی ہوئی لاشیں دیکھی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق وزیرزراعت سالم السقطری بھی اس کار بم دھماکے میں بچ گئے ہیں۔یمنی وزیراعظم معین عبدالملک سعید نے اس قاتلانہ حملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔اس حملے میں نشانہ بنائے گئے دونوں عہدے دارعلاحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کے رکن ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ہےکہ خودکش حملے میں گورنر کے پریس سیکرٹری، کیمرا مین، ان کے سیکورٹی یونٹ کے سربراہ اور چوتھے محافظ کے علاوہ ایک سویلین راہگیر بھی ہلاک ہوگیا ہے۔رائٹرز کے مطابق حملے میں کم سےکم 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

الریاض معاہدہ

یمنی وزیراطلاعات نے اپنے بیان میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ’’الریاض معاہدے کو برقرار رکھنے اوراس کے فوجی پہلو پر عمل درآمد جاری رکھنے اوریمن میں سلامتی اور استحکام کی غرض سے دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔‘‘

انھوں نے عدن کے گورنر اور وزیر زراعت کو نشانہ بنانے کے لیے بزدلانہ دہشت گردی کے جرم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

یادرہے کہ 2019ء میں الریاض میں سعودی عرب کی ثالثی میں یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت فریقین کے درمیان متعدد فوجی انتظامات کے علاوہ جنگ بندی، ساحلی شہر عدن کے لیے نئے گورنراور سکیورٹی ڈائریکٹر کے تقرراور نئی حکومت کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا تھا۔

بعد ازاں سعودی عرب نے معاہدے پر عمل درآمد میں تیزی لانے کے لیے ایک میکانزم متعارف کرایا تھا۔اس میں جنگ بندی کے تسلسل اور فریقین کے درمیان عدم اعتماد کے خاتمے کے لیے کئی اقدامات متعارف کرائے گئے تھے۔

یمن میں 2014 سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے۔تب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا اور یمنی حکومت کے عمل داری والے علاقوں میں جنگی کارروائیاں شروع کردی تھیں۔ 2015 میں یمنی حکومت کی دعوت پرسعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے مداخلت کی تھی۔

اپریل 2020 میں جنوبی عبوری کونسل نے جنوبی یمن کے کچھ علاقوں پر خود حکمرانی کا دعویٰ کردیا تھا جس پر اس کی یمنی حکومت سے کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا لیکن جولائی میں اس گروپ نے حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتا طے کیا تھا اور وہ اپنے دعوے سے دستبردار ہوگیا تھا۔پھر اس نے دارالحکومت صنعاء پر قابض حوثی ملیشیا کے خلاف حکومت کے ساتھ مل کر متحدہ محاذ قائم کر لیا تھا۔