.

طالبان سے مذاکرات میں کابل سے امریکیوں کے پرامن انخلا پر زور دے رہے ہیں: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل ہفتے کے روزامریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واشنگٹن میں ہمارے نمائندے کو بتایا کہ امریکی حکام کی دوحا میں طالبان تحریک کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں کابل سے امریکی شہریوں کے محفوظ انخلاء پر توجہ مرکوز کں جائے گی۔

ترجمان نے کہا کہ 9 اور 10 اکتوبر کو ایک امریکی مشن کابل سے طالبان کے سینیر نمائندوں سے ملاقات کے لیے روانہ ہوگا۔ یہ ملاقات امریکا کے لیے اہم مسائل پر طالبان کے ساتھ عملی رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

طابان کابل ہوائی اڈے پر
طابان کابل ہوائی اڈے پر

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ترجیح امریکی شہریوں ، دیگر غیر ملکیوں اور افغانیوں کے افغانستان سے محفوظ انخلاء ہے جن پر ہماری خصوصی ذمہ داری ہے اور جو ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ طالبان اپنے اس وعدے پر قائم رہنا ہوگا کہ وہ دہشت گردوں کو افغان سرزمین کو امریکا یا اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اس بات کی تصدیق کریں گے کہ طالبان اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں۔

واشنگٹن طالبان سے بھی مطالبہ کرے گا کہ خواتین سمیت تمام افغانوں کے حقوق کا احترام کریں۔ اس کے علاوہ امریکا طالبان سے ایک جامع حکومت بنانے کی تاکید کریں گے جسے عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہو۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ جیسا کہ افغانستان کو ایک بڑی معاشی بدحالی اور انسانی بحران کا سامنا ہے ،ہم طالبان سے مطالبہ کریں گے کہ وہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کو ضرورت مند علاقوں تک کی اجازت دیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس ملاقات کا مقصد طالبان کو تسلیم کرنا یا اسے قانونی حیثیت دینا نہیں ہے۔ ہم اب بھی اپنی پوزیشن میں واضح ہیں۔ طالبان کو ان کے عمل اور رویے سے انہیں تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

طالبان کابل ہوائی اڈے پر
طالبان کابل ہوائی اڈے پر

ہفتے کو تحریک طالبان کی قائم کردہ حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی امریکا سے پہلے براہ راست مذاکرات کے لیے دوحا پہنچے تھے۔ امیر خان متقی نے امریکا کو خبردار کیا کہ وہ افغانستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سے باز رہے۔

دوحا میں مذاکرات کے بعد متقی نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ہم نے انہیں واضح طور پر بتایا کہ افغان حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کسی فریق کے مفاد میں نہیں ہوگی۔

ایک ریکارڈ شدہ بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات سب کے لیے فائدہ مند ہیں۔ ایسا کچھ نہیں کیا جانا چاہیے جو افغانستان کی موجودہ حکومت کو کمزور کر دے۔