.

ریاض معاہدے پرمکمل عمل درآمد کے لیے سعودی عرب کی حمایت کرتے ہیں: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزیراعظم مصطفی مدبولی نے ریاض معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کے لیے سعودی عرب کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قاہرہ کا خیال ہے کہ سیاسی حل یمن کے بحران کا بہترین طریقہ ہے۔

اتوار کو اپنے یمنی ہم منصب معین عبدالملک کے قاہرہ کے دورے کے موقع پر مصری وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا ملک خلیج عرب اور آبنائے باب المندب جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو مسترد کرتا اور حوثیوں کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے۔

آبنائے باب المندب کے ذریعے بحری جہاز کو محفوظ بنانے کے عمل میں بحیرہ احمر اور خلیج عدن سے متصل ممالک کی کوششوں کو مربوط کرنے کے لیے مصر کی خواہش پر بھی زور دیا۔

جہاں تک صافر آئل ٹینک کے بحران کا تعلق ہے مدبولی نے اس ماحولیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے کوششوں کو متحرک کرنے پر زور دیتے ہوئے اثرات کی سنگینی پر زور دیا۔

سرکاری یمنی نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے مختلف شعبوں اور عوامی سطح پردوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

اتوار کو یمنی وزیر داخلہ ابراہیم حیدان نے کہا تھا کہ یمنی حکومت اب بھی ریاض معاہدے کے مکمل نفاذ کی امید رکھتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ معاہدے پر عمل درآمد کے بغیر کسی بھی فریق کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ جولائی 2019 میں سعودی عرب نے یمنی حکومت اور عبوری کونسل کے درمیان ریاض معاہدے کے نفاذ میں تیزی لانے کے لیے ایک طریقہ کار پیش کیا۔ میکانزم نے عمل درآمد کے نکات طے کیے جن میں جنگ بندی کا تسلسل اور آئینی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔