.

طالبان کے ساتھ بات چیت واضح اور پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت واضح اور پیشہ ورانہ نوعیت کی رہی۔ مزید یہ کہ بات چیت میں امن و امان اور دہشت گردی کے معاملات پر توجہ مرکوز تھی۔

آج پیر کے روز ایک بیان میں وزارت خارجہ نے بتایا کہ طالبان کے ساتھ انسانی حقوق کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ علاوہ ازیں بات چیت میں امریکی جانب سے زور دیا گیا کہ افغانستان میں خواتین کو دُور نہ کیا جائے۔

امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق طالبان کی حکومت صرف اقوال کی نہیں بلکہ افعال کی مرہون منت ہو گی۔ طالبان کے ساتھ امریکیوں سمیت غیر ملکیوں اور افغان شراکت داروں کے لیے محفوظ راستے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ فریقین نے افغان عوام کے لیے براہ راست امریکی انسانی امداد پر بات چیت کی۔

دوحہ میں نو اور دس اکتوبر کو امریکی سینئر ذمے داران اور افغان تحریک طالبان کے نمائندوں کے بیچ اجلاس منعقد ہوئے۔

طالبان تحریک نے ہفتے کے روز افغانستان میں شدت پسند جماعتوں پر روک لگانے کے لیے امریکا کے تعاون کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔ رواں سال اگست میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد یہ دونوں مخاصم فریقوں میں پہلی براہ راست بات چیت تھی۔

اس سے قبل اسلام آباد میں امریکی خاتون نائب وزیر خارجہ وینڈی شیرمن اور پاکستانی ذمے داران کے بیچ بات چیت کا دشوار مرحلہ گزرا۔ بات چیت میں افغانستان کا معاملہ توجہ کر مرکز رہا۔ پاکستانی ذمے داران نے امریکا پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے نئے حکمرانوں کے ساتھ رابطہ رکھے اور بین الاقوامی رقوم سے اربوں ڈالر آزاد کرے تا کہ افغانستان کو اقتصادی طور پر ڈھیر ہونے سے بچایا جا سکے۔

اسی طرح پاکستان نے افغان طالبان کو بھیجے گئے ایک پیغام میں زور دیا ہے کہ انسانی حقوق اور نسلی و مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر پوری توجہ دی جائے۔