.

ترکی : 7 فلسطینیوں کی پراسرار روپوشی کے ہفتوں بعد پولیس کا 2 کی حراست کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پولیس نے 7 لا پتہ فلسطینیوں میں سے 2 کے اپنی حراست میں ہونے کا سرکاری طور پر اعلان کیا ہے۔ مذکورہ ساتوں فلسطینی کئی ہفتے قبل مختصر وقفوں کے ساتھ پراسرار طور پر غائب ہو گئے تھے۔ ان کے انجام اور ان کی جگہ کے بارے میں کوئی جان کاری نہیں ملی۔

فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق ترکی میں لا پتہ فلسطینیوں میں سے دو کی جگہ کا پتہ چل گیا ہے۔ ان دونوں کے نام عبد الرحمن يوسف محمد أبو نواه اور رائد عاشور ہیں۔ ترکی کی پولیس نے دونوں افراد کے اہل خانہ اور ان کی روپوشی کی اطلاع دینے والے اداروں کو آگاہ کر دیا ہے۔ مل جانے والے فلسطینیوں کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں۔

فلسطینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ترکی میں اس کا سفارت خانہ بقیہ فلسطینیوں کی جگہ معلوم ہونے تک اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اس کہانی کا آغاز رواں سال 7 اگست کو ہوا تھا جب ایک ماہ کے اندر ترکی میں 7 فلسطینی باشندے لا پتہ ہو گئے ، ان میں خاتون بھی شامل ہے۔ ابھی تک ان افراد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ لا پتہ فلسطینیوں کے اہل خانہ نے ان کی بازیابی کے لیے اپیلیں کی ہیں جب کہ فسلطینی حکام ترک ذمے داران کے ساتھ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

ترکی میں فلسطینی کمیونٹی کے دو افراد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ پہلے چار فلسطینی ایک ساتھ استنبول شہر میں غائب ہوئے، چند روز بعد ایک فلسطینی قونیا شہر میں لا پتہ ہوا، اس کے بعد یونان اور ترکی کی سرحد پر ایک فلسطینی اور آخر میں استنبول شہر میں ایک فلسطینی خاتون لا پتہ ہو گئی۔