مصر : حجاب نہ پہننے پر نوجوان فارماسسٹ خاتون پر تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں ایک خاتون فارماسسٹ کو کام کی جگہ پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے عوامی حلقوں میں غصے کی لہرا دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ الشرقیہ صوبے میں پیش آیا جہاں کفر عطا اللہ گاؤں کے ایک طبی مرکز میں نوجوان خاتون ایزیس مصطفی کو اس کی ساتھی خواتین نے حجاب نہ پہننے پر زدوکوب کیا۔

واقعے سے متعلق وڈیو کلپ میں طبی مرکز کی دو خواتین ایزیس کو بری طرح پیٹتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ خواتین نے ایزیس کے بال پکڑ کر اسے گھسیٹنے کی بھی کوشش کی تاہم مرکز کے دیگر ملازمین نے خاتون فارماسسٹ کو مزید تشدد سے بچایا۔

عینی شاہدین کے مطابق ایزیس کو اپنی ساتھی خواتین کی جانب سے ایک عرصے سے خراب برتاؤ کا سامنا تھا۔ اس روز ان خواتین نے ایزیس کو حاضری کے رجسٹر میں دستخط کرنے سے روک دیا۔ اس پر معاملہ جھگڑے اور پھر ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔

سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔ نوجوان فارماسسٹ نے اپنی دیگر تصاویر بھی جاری کی ہیں جن میں اس پر جسمانی تشدد اور حملے کے نشانات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

الشرقیہ صوبے کے گورنر ممدوح غراب نے پیر کی دوپہر ایزیس مصطفی کو دعوت دی تا کہ واقعے پر معذرت پیش کر سکیں۔

ساتھ ہی گورنر نے واقعے کی وسیع تحقیقات اور تمام قانونی اقدامات کیے جانے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں