.

اسرائیل نے یروشلم میں فلسطینیوں کےلیے 400 گھروں کی تعمیر کی اجازت دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے یروشلم کے شمال میں بیت حنینا کے مقام پر زیادہ آمدنی والے فلسطینیوں کے لیے 400 ہاؤسنگ یونٹ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے یہ فیصلہ فلسطینیوں کو درپیش رہائشی مسائل کا متبادل ہوسکتا ہے کیونکہ اسرائیلی پالیسیوں کے نتیجے میں القدس کے فلسطینی باشندےاپنے گھر چھوڑنے پرمجبور ہیں۔

یہ اسکیم سنہ 1967 کے بعد یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑا ہاؤسنگ پروجیکٹ قرار دیا جاتا ہے جس پر300 ملین ڈالر سے زائد کی لاگت سے 8 رہائشی اور ایک کمرشل سمیت 8 ٹاورز کی تعمیر کے اجازت نامے حاصل کرنے میں دس سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔

اس منصوبے کی زمین پر کھدائی کا کام شروع ہوچکا ہے۔ یہ رہائشی کالونی یروشلم اور رام اللہ کو ملانے درمیان سڑک پر قلندیا کے ویران ہوائی اڈے کے قریب ہے۔ اس علاقے میں اسرائیل نے آنے والے مہینوں میں 9 ہزار گھروں کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے۔

پروجیکٹ منیجرانس موسا کے مطابق اس منصوبے کے پہلے مرحلےکی تکمیل میں ڈھائی سال لگ سکتے ہیں۔

لیکن فلسطینیوں کو شکایت ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے اپنے منصوبے کے تحت نئی تعمیرات کی اجازت حاصل کرنا کرنا تقریبا ناممکن بنا دیا ہے۔ القدس میں فلسطینی باشندوں کی تعداد تین لاکھ جب کہ یہودی آباد کاروں کی تعداد دو لاکھ 21 ہزار ہے۔
اس اسرائیلی پالیسی نے فلسطینیوں کو یروشلم شہرچھوڑنے اور اس کے باہر کے محلوں میں رہنے پر مجبور کیا۔

فلسطینیوں کوگھروں کے بحران کے خاتمے کے لیے 20 ہزار سے زائد نئے ہاؤسنگ یونٹس درکار ہیں اور یروشلم کے صرف 13 فیصد علاقے پر تعمیر کرنے کی اجازت ہے۔ اسرائیل نے القدس کے قبضے میں لیے52 فی صد علاقے کو یہودی کالونیوں اور 35 فی صد کو بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور دیگر املاک کے لیے مختص کیا ہے۔

اسرائیلی "پیس ناؤ" تحریک نے واضح کیا ہےکہ اسرائیلی حکومت اپنے بنیادی ڈھانچے کو قائم کرنے کے بعد یہودیوں کے لیے57 ہزار گھروں کی تعمیر کی ہے۔