.
ایران جوہری معاہدہ

ایران جوہری ہتھیاروں کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے:اسرائیلی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیرخارجہ یائرلبید نے منگل کو امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کوسخت الفاظ میں کہا کہ ایران "ایک ایٹمی دہلیز" پرپہنچ گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ضروری معلومات حاصل ہیں۔

لبید نے واشنگٹن میں سلیوان سے ملاقات کے دوران غیرمعمولی طورپرسخت زبان استعمال کی۔ ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے بعد ازاں اسرائیلی وزیرخارجہ کے الفاظ نے کانگریس کے رہ نماؤں کے ایک وفد کو بتائے جنہوں نے اسپیکر نینسی پیلوسی کی قیادت میں ان سے ملاقات کی تھی۔

گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ایک ’’ واٹر شیڈ لمحے‘‘ پر ہے۔

لبید کے دفترنے ایک بیان میں کہا کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ نے امریکی قومی سلامتی کے مشیرکے ساتھ ایران کی ایٹمی صلاحیت کی دوڑ اور اس حقیقت کے بارے میں اپنے خدشات شیئر کیے کہ ایران ایک ایٹمی دہلیزپر کھڑا ملک بن گیا ہے۔

ان کے دفتر نے مزید کہا کہ لبید اور سلیوان نے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (ایٹمی معاہدہ) کے لیے "پلان بی کی ضرورت" پرزور دیا۔ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ سابق صدر باراک اوباما کےدور میں طے پایا تھا مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں اسے منسوخ کردیا تھا۔

امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام پر تہران کے خلاف متبادل آپشنز پرغور نہیں کیا تاہم واشنگٹن ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے سفارت کاری کی راہ پر چل رہا ہے۔ صدر بائیڈن نے اگست میں بینیٹ کو بتایا تھا کہ اگریہ کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا دوسرے آپشنز پر غور کرنے کو تیار ہو جائے گا۔

تاہم سلیوان نے کہا کہ صدر بائیڈن نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کا عزم کررکھا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو متاثر کرنے والے دیگر اہم معاملات پر قریبی مشاورت جاری رکھیں گے۔

امریکا اور ایران دونوں کے عہدیداروں نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔

دریں اثنا ایران نے عوامی طور پر معاہدے کی کچھ شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران نے مجاز حد سے بڑھ کر افزودہ شدہ یورینیم ذخیرہ کیا ہے۔ نئے سینٹری فیوجز نصب کیے ہیں اور ایٹم بم کی تیاری کی طرف پیش قدمی شامل ہے۔