.
ایران جوہری معاہدہ

ایران کے جوہری معاہدے سے امریکا کو الگ کرنا غلطی تھی: سابق موساد چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کےخفیہ ادارے ’موساد‘ کے سابق سربراہ افرائیم ہیلیوی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی پالیسی نے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول میں پہلے سے کہیں زیادہ قریب کیا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ سخت گیر فلسطینی مزاحمتی تنظیم "حماس" کے ساتھ مذاکرات کرے۔

ھلیوی جنہوں نے نیتن یاہو کے پہلے دورمیں انٹیلی جنس سروس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں نے باور کیا کہ نیتن یاھو نے ایرانی جوہری معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرکے "ایک بڑی غلطی" کا ارتکاب کیا تھا کیونکہ اس غلطی نے تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے اور قریب کردیا۔

اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کو دیئے گئےانٹرویومیں انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ سوچا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پرایٹمی معاہدے سے نکلنے پر دباؤ ڈالنا اور کسی طریقے سے امریکا کی ایران کے جوہری معاہدے سے علاحدگی کرانا ایک بہت بڑی غلطی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں امریکا کو ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے سے الگ کرنا ایک بڑی غلطی تھی۔ اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم معاہدے سے ٹرمپ کے دستبردار ہونے کے بعد پیش آنے والے واقعات کو دیکھیں توایران کے خلاف صورتحال زیادہ خراب ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کہتا ہے کہ ایران جوہری میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے اتنا قریب نہیں تھا جتنا اب ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سابق حکومت کی ایران کے حوالے سے پالیسی غلط تھی۔ یہ ناکامی افسوسناک ہے جو تاریخی ناکامی بن سکتی ہے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات

جب ان سے پوچھا گیا کہ سنہ 2015 کا معاہدہ ایران کی ایٹمی پیش رفت میں رکاوٹ ڈالنے میں کتنا موثر تھا؟ ھلیوی نے جواب دیا کہ یہ ایک نامکمل معاہدہ تھا مگرمیرا خیال ہے کہ ایک نامکمل معاہدہ کسی قسم کا سمجھوتا نہ ہونے سے بہترتھا۔

یہ معاہدہ خفیہ مکالمے اور رابطوں کا آغاز ثابت ہوسکتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اسرائیل اور ایران ان حالات میں ایک دوسرے سے بات کر سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ اس قسم کی سرگرمیوں کو فروغ دیتا رہا ہوں۔ طاقت ، چالاکی اوراشتعال انگیز سرگرمیوں کے متبادل کے طور پر نہیں ، بلکہ بات چیت کا راستہ آپ کبھی آپ کو مختلف آپشنز کے درمیان انتخاب کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہےکہ ایران کے ساتھ طے پایا جوہری معاہد توڑنا ایک غلطی تھی ۔ اب بھی سمجھتا ہوں کہ یہ آپشن کو مینو سے ہٹانا اور خود کو محدود کرنا غلطی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ اس میں واپس نہ آنے کی کوشش کر کے اپنا نقصان کر رہے ہیں۔

ھیلوی کے مطابق نیتن یاہو نے ایران کے خلاف ’موساد‘ کی کاروائیوں کو شائع کر کے ایک سنگین غلطی کی جو کہ ان کے مطابق ایرانیوں کو بدنام کرنے کی کوشش کا حصہ تھی۔

انٹرویو کے دوران موساد کے سابق چیف نے چین سے معاشی سرمایہ کاری پر انحصار کرتے ہوئے اسرائیل کو لاحق خطرے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیل کو "حماس" تحریک کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر غور کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔