.

شام سے سرحد پارحملوں کے بعد ہرممکن ضروری اقدام کیا جائے گا:ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیرخارجہ مولودشاوش اوغلو نے کہا ہے کہ ’’ترکی اپنی سلامتی کے لیے جو ضروری ہے،وہ کرے گا۔‘‘ان کا کہنا ہے کہ ’’شامی کرد وائی پی جی ملیشیا کے سرحد پار حملوں کو روکناامریکا اور روس کی ذمے داری ہے اور اب وہی ان حملوں کے موردالزام ٹھہرائے جائیں گے۔

مولود شاوش اوغلو نے بدھ کو انقرہ میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکااور روس نے وائی پی جی کے شام کے سرحدی علاقے سے انخلا کویقینی بنانے اور پیچھے ہٹانے کے وعدے پورے نہیں کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ترکی پرسرحدپارحملوں کی مذمت غیرسنجیدگی کی مظہر ہے کیونکہ واشنگٹن تو خود وائی پی جی کو مسلح کر رہا ہے۔

ترک صدررجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز کہا تھا کہ’’ انقرہ نے امریکا کی حمایت یافتہ وائی پی جی پر جس حملے کا الزام لگایا ہے،وہ ’’آخری لکیر‘‘ہے اور ترکی شمالی شام میں پیدا ہونے والے خطرات کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘اس حملے میں ترکی کے دو پولیس افسرہلاک ہوگئے ہیں۔