.

عراق میں پارلیمانی انتخابات میں 97 خواتین کامیاب

یورپی مبصر کی انتخابی عمل کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی مبصر مشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ عراق میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات اچھی طرح منظم تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران اظہار رائے کی آزادی کا احترام کیا گیا۔

منگل کو عراقی نیوز ایجنسی نے یورپی مبصر مشن کی سربراہ ’ویولا وون کرامون‘ کا ایک بیان نقل کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ عراقی انتخابات اچھی طرح سے منظم تھے اور پولنگ کا دن "پرامن" رہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ووٹروں نے آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے 59 سفارتکاروں کے علاوہ 100 سے زیادہ مبصرین کے ذریعے انتخابی عمل کی نگرانی کی گئی۔

مسٹر کرامون نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران اظہار رائے کی آزادی کا احترام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی جائزہ رپورٹ نئے ایوان نمائندگان کو پیش کی جائے گی۔

ادھر کل عراق کے الیکشن کمیشن نے پولنگ سے متعلق ہونے والے اعتراضات اور اپیلیں وصول کرنا شروع کردی ہیں۔ اپیلیں تین روز تک وصول کی جائیں گی۔

عراقی نیوز ایجنسی نے کابینہ سیکریٹریٹ کے حوالے سے بتایا کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں 97 خواتین کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔ مذہبی لیڈر مقتدیٰ الصدر کی جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں اور ان کی اب تک کی جیتی گئی نشستوں کی تعداد 73 ہے۔’تقدم‘ بلاک نے 38 سیٹوں پرکامیابی کا دعویٰ کیا ہے جب کہ تیسرے نمبر پردولۃ القانون 37 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

الفتح اتحاد انتتخابات ہارگیا ہے اور اس نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام عاید کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔

الفتح کے مقرب ذرائع نے کہا کہ الیکٹورل کمیشن نے قانونی طریقہ کار کی پاسداری نہیں کی۔

الفتح الائنس کی قیادت ہادی العمری کر رہے ہیں۔ اس میں وہ جماعتیں شامل ہیں جن کے مسلح دھڑے ہیں اور اس کا اثر جنوبی اور مرکزی گورنریوں علاوہ دارالحکومت بغداد میں بھی ہے۔ الفتح کے حامیوں کی بڑی تعداد دیالی ، صلاح الدین اور نینوی میں بھی موجود ہے۔