.

ہماری اپنی ایک لاکھ فوج ہے، اُجرتی جنگجوؤں کی ضرورت نہیں:آذربائیجان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آذربائیجان نے ایران کی طرف سے متنازع علاقے ’ناگورنو کارا باخ‘ میں اجرتی قاتلوں کی منتقلی کا الزام مُسترد کردیا ہے۔

آذربائیجان کی وزارت خارجہ کی ترجمان لیلا عبداللہیفا نے منگل کے روز ایرانی وزیر خارجہ امیر حسین عبداللہیان کے حالیہ دورہ لبنان کےدوران ان کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ باکو متنازع علاقے میں جنگجو او ردہشت گرد جمع کررہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے الزام عاید کیا تھاکہ تھا کہ گذشتہ موسم خزاں میں جنگ کے دوران ناگورنو-کاراباخ علاقے میں کرائے کے فوجی اور دہشت گرد لائےگئے تھے۔

آذربائیجان کی وزارت خارجہ کی ترجمان لیلا عبداللہیفا
آذربائیجان کی وزارت خارجہ کی ترجمان لیلا عبداللہیفا

ترجمان نے ایرانی وزیر پرسخت تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ باکو کے خلاف بے جا الزام تراشی اور بہتان لگانے کا سلسلہ بند کریں۔

"ایران ٹائمز" چینل کے مطابق لیلا عبداللہیفا نے کہا کہ آذربائیجان مخالف مہم ایران کے مفاد میں نہیں۔ یہ واضح ہے کہ یہ بے بنیاد الزامات آذربائیجان کی سرزمین میں ایرانی ٹرکوں کے غیر قانونی داخلے کو روکنے اور آذربائیجان کی کا اپنی اراضی قبضے سے چھڑانے کی وجہ سے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان
ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان

ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے آرمینیا کے ساتھ جنگ میں "اجرتی فوجیوں اور دہشت گردوں" سے فائدہ اٹھانے کے الزام کے جواب میں آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جو لوگ دہشت گردوں کو تلاش کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنے ارد گرد دیکھیں۔ پچھلے سال اکتوبر میں جمہوریہ آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے باکو میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے سمیت غیرملکی سفارت کاروں کو ہماری مقبوضہ زمینوں پر لڑائی میں آرمینیائی کرائے کے فوجیوں کی شرکت کے بارے میں معلومات فراہم کیں تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ناگورنو-کاراباخ علاقے میں 44 روزہ جنگ کے دوران اعلان کیا اور ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آذربائیجان کے علاقے میں کوئی دہشت گرد موجود نہیں ہے اور نہ ہی کبھی رہے ہیں۔ آذربائیجان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔

عبداللہیفا نے اس بات پر زور دیا کہ آذربائیجان کو جیسا کہ صدر الہام علیوف نے کہا ہے کرائے کے فوجیوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کی اپنی ایک لاکھ سے زیادہ فوج موجود ہے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران آذربائیجان کی سرحد پر ایرانی مشقوں کے باعث تہران اور باکو کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے۔ ایک طرف میڈیا مہم اور دوسری طرف دونوں اطراف کے حکام کے درمیان بیانات کی جنگ دیکھی جا رہی ہے اوردونوں پڑوسی ملک ایک دوسرے پر مداخلت کا الزام بھی لگاتے ہیں۔

اسی تناظر میں 12 ستمبر کو پاکستان ، ترکی اور آذربائیجان نے "تین بھائیوں" کے عنوان سے مشقیں کیں۔ بعد ازاں تہران نے یکم اکتوبر کو آذربائیجان کے خودمختار علاقے نخچیوان کی سرحدوں پر مشقیں کی تھیں۔