.

’جب والد کی تمنا کے باوجود ایوانکا ٹرمپ عالمی بنک کی صدربنتے بنتے رہ گئی تھیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی بنک کے صدر کا عہدہ خالی ہونے پراپنی بیٹی ایوانکا کا امیدوار کے طور پر تجویز کیا تھا مگر اس وقت کے وزیر خزانہ اسٹیفن نوشین نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھا اور اس کو مسترد کردیا تھا۔

دی انٹرسیپٹ نیوز سائٹ نے دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایوانکا ٹرمپ کو عالمی مالیاتی ادارے کی سربراہ بنانے کے لیے مذاکرات ماضی کی نسبت زیادہ سنجیدہ رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اپنی بیٹی کو ورلڈ بینک کی سربراہی دینا چاہتے تھے لیکن سیکرٹری خزانہ نوشین نے ان کا تقرر نہیں ہونے دیا۔

ایوانکا ٹرمپ اپنے والد کی ایک سینیر مشیرتھیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی امریکی صدر نے اپنی ہی بیٹی کو عالمی بنک کا سربراہ لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے ایسا اس وقت سوچا جب جنوری 2019ء میں ’جم یونگ کم‘ عالمی بنک کی سربراہی سے استعفا دے کر وال اسٹریٹ اسٹاک ایکسچینج منتقل ہوگئے تھے۔

جم یونگ کے اس اچانک فیصلے نے وائٹ ہاؤس میں افراتفری پیدا کردی اور سابق صدر کو اپنے مزاج کے مطابق عالمی بنک کو دوبارہ فعال بنانے کا ایک موقع مل گیا۔

رپورٹ کے مطابق جب وائٹ ہاؤس نے ورلڈ بنک کے لیے نئے صدر کی تلاش کا عمل شروع کیا تو ٹرمپ نے اس عہدے کے لیے اپنی نورنظر ایوانکا ٹرمپ کا نام تجویز کیا تھا۔

دی اٹلانٹک کے ساتھ 2019 میں ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے "ایوانکا کو ورلڈ بنک کی سربراہی کے لیے نامزد کرنے پر غور کیا تھا۔ وہ بلاشبہ اس عہدے کے لیے موزوں تھیں کیونکہ وہ نمبر گیم کو اچھی طرح جانتی ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ ورلڈ بنک کے سربراہ کا انتخاب اس کا بورڈ آف گورنر کرتا ہے اور متوقع امیدوار امریکا کی طرف سے نامزد کیے جاتے ہیں۔

اس تناظر میں وائٹ ہاؤس کی سابق ترجمان جیسکا ڈیٹو نے کہا کہ مسز ٹرمپ ورلڈ بنک کی قیادت کے لیے اہل تھیں کیونکہ انھوں نے ایوانکا فنڈ قائم کیا تھا اور یہ عالمی مالیاتی ادارے کی مدد کے لیے ایک اقدام ہے۔

تاہم ٹرمپ کے سیکریٹری خزانہ اسٹیفن نوشین اکثر ان کے بڑے نتیجہ خیز اقدامات کے آڑے آجاتے تھے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی وزیر خزانہ ہالی وڈ پروڈکشنز کے بڑے فنانسر تھے اور ٹرمپ نے ان کی منظوری طلب کی۔ وزیرخزانہ کو موثر اور اہم فیصلے کرنے میں بالادستی حاصل رہی ہے۔

وزیرخزانہ اور وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مک مولوینی نے ایوانکا سے کہا کہ وہ عالمی بینک کے نئے صدر کے لیے موزوں امیدوار کی تلاش کے عمل میں مدد فراہم کریں۔

سنہ 2019ء میں ایوانکا ٹرمپ نے ورلڈ بنک کی سربراہی کےلیے نام تجویز کیے جانےکی خبروں کو یہ کہہ کرنظرانداز کردیا وہ صدر کی مشیر کے طورپر خدمات انجام دینے ہی پر خوش ہیں۔

امریکی انڈرسیکرٹری برائے بین الاقوامی امور ڈیوڈ مالپاس کو ورلڈبنک کا نیا صدر نامزد کیا گیا تو ایوانکا ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا کہ مسٹر مالپاس ادارے کےایک غیر معمولی صدر ہوں گے۔