.

برطانوی حکمران جماعت کے پارلیمنٹرین سر ڈیوڈ امیس چرچ کے اندر چاقو حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان سر ڈیوڈ امیس پر چرچ میں ایک حملہ آور نے چاقو سے کئی وار کیے جس کے نتیجے میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 69 سالہ رکن پارلیمان پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ ایک میتھوڈسٹ چرچ میں اپنے حلقے کے لوگوں سے مل رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق کنزرویٹو جماعت سے تعلق رکھنے والے سر ڈیوڈ امیس پر چاقو سے کئی وار کیے گئے۔ ڈیوڈ ایمس مشرقی انگلینڈ کےعلاقے ساؤتھ اینڈ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حملہ آور اس وقت چرچ میں داخل ہوا جب حلقے کا اجلاس جاری تھا جس میں ڈیوڈ ایمس بھی شامل تھے۔ کنزرویٹو جماعت سے تعلق رکھنے والے کونسلر جان لیمب نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ رکن پارلیمان چرچ میں ہی ہیں اور انہیں اندر نہیں جانے دیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال سنجیدہ لگ رہی ہے۔

ڈیوڈ ایمس مشرقی انگلینڈ کےعلاقے ساؤتھ اینڈ کی نمائندگی کرتے تھے
ڈیوڈ ایمس مشرقی انگلینڈ کےعلاقے ساؤتھ اینڈ کی نمائندگی کرتے تھے

ڈیوڈ امیس کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی جا رہی تھی کہ اسی دوران خون زیادہ بہہ جانے سے وہ انتقال کر گئے۔ ڈیوڈ امیس پہلی مرتبہ 1983 میں باسلڈن کے علاقے سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد 1979 میں ساؤتھ اینڈ کے حلقے سے انتخاب لڑا تھا۔ ڈیوڈ امیس کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق ان کی بنیادی دلچسپی جانوروں کی فلاح اور زندگی کے تحفظ سے متعلق مسائل میں ہیں۔

برطانوی سیاستدانوں پر حملوں کی تاریخ

اس سے پہلے بھی برطانوی سیاستدانوں پر حلقے کی سرجری کے دوران یا ملاقات کے لیے جاتے ہوئے حملہ کیا جا چکا ہے۔

2016 میں اپوزیشن لیبر پارٹی کی رکن اسمبلی جو کاکس کو یورپی یونین سے علاحدگی کے بارے میں برطانیہ کے ووٹ سے ایک ہفتہ قبل گلی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

برطانیہ کو یورپی یونین میں رکھنے کے حامی ایک مقامی شخص نے اپنے انتخابی حلقے کے عوام سے ملاقات کے لیے جانے والی رکن پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا جس میں جانبر نہ ہو سکے تھے۔

حملہ آور نازیوں اور انتہائی دائیں بازو کے نظریات کا حامل 53 سالہ تھامس مائر نامی شخص تھا جس نے 41 سالہ جو کاکس اور دو بچوں کی ماں کو گولی مار کر زخمی کردیا، حملے کے دوران انہوں نے ’سب سے پہلے برطانیہ‘ کا نعرہ بلند کیا اور بعد میں عدالت میں پیشی کے موقع پر موقف اپنایا کہ برطانیہ کی آزادی کے لیے غداروں کو موت کے گھاٹ اتار دینا چاہیے۔

انہیں نومبر 2016 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

2010 میں لیبر پارٹی کے رکن اور کابینہ کے سابق وزیر اسٹیفن ٹمز کو مشرقی لندن میں ان کے دفتر میں ایک 21 سالہ طالب علم نے حلقہ کے عوام سے ملاقات کے دوران پیٹ میں چھرا گھونپا دیا تھا، یہ حملہ آور 2003 کی عراق جنگ کی حمایت کرنے پر سابق وزیر سے ناراض تھا۔

وہ ہنگامی سرجری کے بعد اس حملے میں بچ گئے تھے اور اب بھی رکن پارلیمنٹ ہیں، حملہ آور کو کم از کم 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

2000 میں لبرل ڈیموکریٹ کے مقامی کونسلر نائجل جونز کو ایک شخص نے تلوار سے قتل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں