ٹکنالوجی کی عبقری کمپنی ’’ایپل‘‘ نے چین میں قرآن کریم کی معروف ایپ بند کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

معروف ٹکنالوجی کمپنی ایپل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے حکام کے کہنے پر چین میں قرآن کی سب سے مقبول ایپ کو بند کر دیا ہے۔ قرآن مجید نامی ایپ دنیا بھر میں ایپ سٹور پر دستیاب ہے اور اس کے ریویوز کی تعداد 150,000 کے قریب ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ ایپل نے اس ایپ کو چینی حکام کی درخواست پر اپنے ایپ سٹور سے ہٹا دیا ہے۔ ایپ کے ڈیلیٹ ہونے کے بارے میں سب سے پہلے ویب سائیٹ ایپل سنسرشپ کو معلوم ہوا جو دنیا بھر میں ایپل کے ایپ سٹور میں کو مانیٹر کرتی ہے۔

جب چین کی حکومت سے ردعمل کے لیے رابطہ کیا گیا تو اس نے جواب نہیں دیا۔ چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی اسلام کو ملک کے اندر ایک مذہب کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

تاہم چین پر حقوق انسان کی خلاف ورزیوں، حتٰی کہ شنکیانگ صوبے میں یغور مسلمانوں کی نسل کشی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

ایپل سے جب رابطہ کیا گیا تو اس نے براہ راست تبصرے کے لیے برطانوی نشریاتی ادارے کو اس کی ہیومین رائٹس پالیسی سے رجوع کرنے کو کہا، جس میں لکھا ہے: ’ہم مقامی قوانین کی پیروی کرنے کے پابند ہیں، اور بعض اوقات ایسے پچیدہ مسائل سامنے آ جاتے ہیں جن پر ہم حکومتوں کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے۔‘

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ چین میں ایپل نے کن ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ قرآن مجید ایپ کا اپنے بارے میں کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 35 ملین مسلمان اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔

ایپ بنانے والی کمپنی پی ڈی ایم ایس نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایپل کے مطابق ہماری ایپ قرآن مجید کو چین میں ایپ سٹور سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ اس میں غیر قانونی مواد تھا۔‘ کمپنی نے کہا کہ ’ہم مسئلے کے حل کے لیے چین کی سائبر سپیس انتظامیہ اور دیگر حکام سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ کمپنی کے مطابق چین میں دس لاکھ افراد ان کی ویب سائٹ استعمال کرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں