کیا خلیج عرب ۔ امریکا دوستی افغان خطرے کو ٹال سکتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پچھلے کچھ دنوں سے امریکا کو افغانستان میں بڑھتے ہوئے خطرات پر قابو پانے میں جو مشکلات درپیش ہیں وہ مزید بڑھ گئی ہیں۔ العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں کے ذرائع کے مطابق اب امریکیوں کی سب سے زیادہ تشویش طالبان کے رجحانات اور امریکی حکومت کی ناکامی ہے۔یہی وجہ ہے کہ افغان خطرے سے نمٹنے کے امریکا آس پاس کے ممالک کی مدد کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔

ہزاروں ٹن ہتھیار جو طالبان کے ہاتھ لگ گئے

العربیہ / الحدث کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کے ہاتھوں میں آنے والے ہتھیاروں کا تخمینہ ہزاروں ٹن ہے لیکن یہ امریکا کے لیے اسٹریٹجک خطرہ نہیں ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے ذرائع نے پہلے سے جاری بیانات کو دہرایا ہے کہ امریکیوں نے افغان فورسز کو جدید اسلحہ نہیں دیا لیکن واشنگٹن انہیں انفرادی ہتھیار اور دیگر کم ٹیک ہتھیار دیتا رہا ہے۔ یہ ہتھیار شورش کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ان ہتھیاروں کی بڑی مقدار طالبان کے ہاتھ لگی ہے مگر وہ امریکا کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

افغانستان میں کام کرنے والوں میں سے ایک نے ’العربیہ‘ کو بتایا کہ افغانوں کو 2005 سے ہتھیاروں کو برقرار رکھنے اور چلانے کے لیے امریکیوں کی مسلسل مدد کی ضرورت تھی اور اب ان کے انخلا کے ساتھ ہی تکنیکی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں۔ ان ہتھیاروں کو ان کے کم معیار کے باوجود استعمال کرنے کے امکان موجود ہے مگر ان کے پرزے مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔

پاکستان کا کردار

ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امریکیوں نے پاکستانی حکومت کے ساتھ اس امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ طالبان اسلام آباد سے ہتھیاروں اور خراب ہونے والے اسلحے کی مرمت کے معاملے میں مدد کرنے کو کہیں گے کیونکہ پاکستانی فوج اچھی تکنیکی صلاحیتوں، جدید انفراسٹرکچر کی حامل ہونے کے ساتھ پاکستان اور طالبان کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔

امریکی اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا طالبان اپنے وعدے کس حد تک پورا کرتے ہیں؟ بالخصوص امریکیوں، غیر ملکیوں اور افغانیوں کو جو ملک چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں محفوظ راستہ دیتے ہیں یا نہیں۔ اگر طالبان ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تواس صورت میں امریکا پاکستان کو طالبان کی مدد سے باز رکھنے کے لیے پورے عزم کے ساتھ کام کرے گا۔

ہوائی جہاز ایک تحفہ تھے

جہاں تک افغان ایئر فورس کے طیاروں کا معاملہ ہے جو پائلٹوں نے وسطی ایشیا کے ممالک میں منتقل کیے ہیں تو یہ تمام فریقوں کے لیے کانٹے دارمعاملہ لگتا ہے۔ ان طیاروں کے معاملے میں امریکا، وسطی ایشیائی ممالک اور طالبان جو ان طیاروں کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں کے بارے میں کوئی ٹھوس پیش رفت اور حل نہیں نکل سکتا ہے۔

طالبان فورسز
طالبان فورسز

امریکی کہتے ہیں کہ یہ طیارے امریکی حکومت کی طرف سے افغان فضائیہ کے لیے تحفہ ہیں۔اب چونکہ جس افغان حکومت کو یہ تحفہ دیا گیا تھا وہ تحلیل ہوچکی ہے۔ اس لیے امریکا ان طیاروں کو واپس لینے کا حق رکھتا ہے۔

امریکی حکومت یہ بھی سمجھتی ہے کہ اسے ان طیاروں کی بازیابی ، یا انہیں کسی دوسرے ملک منتقل کرنے یا تباہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ مسئلہ میزبان ممالک مثلا تاجکستان ، ترکمانستان اور ازبکستان کے ساتھ بھی زیر التوا ہے۔

عرب ۔ امریکا دوستی کی اہمیت

یہ واضح ہے کہ امریکا بالخصوص سینٹرل کمانڈ کو افغانستان کے بارے میں اپنی موجودہ پالیسی پر عمل درآمد کے لیے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ خاص طور پر جب اس کے پڑوسی ممالک کی بات ہو۔ ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ امریکا اپنی سیاسی، سیکیورٹی اور فوجی تعاون میں خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ واشنگٹن مشکل وقت میں خلیجی ممالک کی طرف دیکھتا ہے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران بحیرہ عرب اور خلیج عرب میں امریکی بحری موجودگی میں کمی آئی ہے کیونکہ امریکا کی طرف سے بھیجا جانے والا طیارہ بردار بیڑہ بحر الکاہل واپس آ گیا ہے لیکن خلیج عرب امریکا کے فوجی اڈے بدستور موجود ہیں۔

امریکی فوج سمجھتی ہے کہ یہ اڈے فضائی سروے کے لیے ایک نقطہ آغاز فراہم کرتے ہیں جس کی امریکی افواج کو افغانستان کی فضائی حدود میں ضرورت ہے۔یہ اڈے جغرافیائی لحاظ سے قریب ترین ہیں اور اسی وجہ سے امریکی فوج ان تعلقات کی گہرائی اور ان کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری پر بہت مطمئن دکھائی دیتی ہے۔

خلا خطرے کا باعث بن سکتا ہے

امریکا کے افغانستان کی فضائی حدود میں ڈرون اور جنگی طیاروں کے ذریعے فضائی سروے سے مطمئن نہیں ہیں لیکن امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ جاسوسی علاوہ سیٹلائٹ سمیت دیگر ذرائع پر انحصار کر رہی ہے۔

مشکل سوال ان تمام اقدامات اور ذرائع کی افادیت کے بارے میں باقی ہے۔ امریکی اب یہ نہیں کہتے کہ افغانستان میں خطرہ یقینی طور پر بڑھ گیا ہے ، لیکن "افق" کی حکمت عملی دیگرحکمت عملیوں کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے۔ زمین پر اتحادی فوج کی عدم موجودگی، فوجی اڈوں کی دوری اور جغرافیائی فاصلے مشکلات اور خطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں