.

کابل ڈرون حملہ، امريکا متاثرہ افغان خاندانوں کو زر تلافی ادا کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ نے افغانستان میں ڈرون حملے کی ’افسوسناک غلطی‘ میں ایک خاندان کے 10 افراد ہلاک ہونے پر مالی معاوضے کی پیشکش کی ہے۔

رواں سال اگست کے اواخر میں امریکہ کے مکمل فوجی انخلا سے قبل کابل میں اس ڈرون حملے میں ایک امدادی کارکن اور ان کے خاندان کے نو افرا ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں سات بچے شامل تھے۔

مرنے والوں میں سے کئی افراد کو اگلے چند دنوں میں انخلا کی پروازوں پر سفر کرنے کی امید تھی۔ پینٹاگان نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ خاندان کے باقی افراد کی امریکہ منتقلی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی واپسی اور اقتدار سنبھالنے کے کچھ روز بعد شدت پسند گروہ نام نہاد دولت اسلامیہ خراساں کی جانب سے کابل ایئرپورٹ کے قریب ایک خوفناک حملہ کیا گیا تھا۔ اسی دھماکے کے بعد معصوم شہریوں پر امریکہ کی جانب سے یہ ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔

تاہم کچھ ہفتوں بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مکینزی نے اس حملے کو ‘سنگین غلطی’ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس حملے میں معصوم شہری ہلاک ہوئے۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے دوران بتایا گیا کہ احمدی ‘این ای آئی’ کے لیے کئی برس سے کام کر رہے تھے اور وہ افغانستان میں اموات کی بلند شرح کا سامنا کرنے والے لوگوں کی دیکھ بھال اور ان کی جان بچانے میں مدد فراہم کرتے تھے۔

اس حملے کے کچھ دن بعد امریکہ کی فوج کے اعلیٰ ترین افسر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے بھی اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا تھا۔

جنرل ملی کا رواں ماہ یکم ستمبر کو پینٹاگان میں صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ انہیں دیگر ذرائع سے بھی یہ معلوم ہوا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے کم از کم ایک فرد داعش کا سہولت کار تھا۔ ان کے بقول اس ضمن میں درست طریقۂ کار اپنایا گیا تھا۔

امریکی محکمۂ دفاع کے دعوؤں کے بعد مختلف خبریں سامنے آئی تھیں کہ امریکہ کی فوج کے ڈرون حملے میں داعش خراسان کے سہولت کار کے بجائے ازمرائی احمدی نامی امدادی رضاکار کو ہلاک کیا گیا ہے جو کہ امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم کے امدادی کارکن تھے اور جنہوں نے امریکہ منتقل ہونے کے لیے درخواست بھی دے رکھی تھی۔

امریکی اخبارات ‘نیو یارک ٹائمز’ اور ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی تحقیقات نے بھی امریکی دعوؤں پر شکوک پیدا کر دیے تھے۔

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کی ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کرنے کے بعد رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ کی فوج نے ممکنہ طور پر دیکھا ہو گا کہ ازمرائی احمدی اور ان کے ساتھی گاڑی میں کنستر یا گیلن رکھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ گیلن پانی سے بھرے ہوئے تھے کیوں کہ کابل کے جس علاقے میں ان کا گھر تھا، وہاں پانی کی قلت ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق اس کے علاوہ امریکہ کی فوج نے دیکھا ہو گا کہ ان کے پاس لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی ہیں۔

خیال رہے کہ اس ڈرون حملے سے قبل کابل ایئر پورٹ کے ایک دروازے پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں 169 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ جس کی ذمہ داری داعش کی ذیلی تنظیم نے قبول کی تھی۔

گزشتہ ماہ جنرل مکینزی کا کہنا تھا کہ امریکہ ڈرون حملے کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

امریکی انخلا کے لیے طے صدر جو بائیڈن کی ڈیڈ لائن کے تحت آخری امریکی فوجی 31 اگست کو افغانستان سے اپنے ملک کے لیے روانہ ہوئے۔

اس سے قبل ایک لاکھ 24 ہزار غیر ملکیوں اور افغانوں کو دیگر ممالک میں منتقل کیا گیا تھا۔ لیکن کچھ لوگ وقت پر افغانستان چھوڑ نہ سکے جبکہ انحلا کا عمل اب بھی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں